سوشل میڈیا (Social Media) — Page 38
جن مجالس میں سچائی کی باتیں نہ ہوں ، گھٹیا اور لغو باتیں ہوں ان سے فوراً اٹھ جاؤ۔جہاں خدا تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف باتیں ہوں ان مجالس میں نہ جاؤ۔اب یہ گھٹیا اور لغو باتیں اس زمانے میں بعض دفعہ لاشعوری طور پر گھروں کی مجلسوں میں یا اپنی مجلسوں میں بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔نظام کے خلاف بات ہوتی ہے۔کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ عہدیداروں کے خلاف اگر باتیں ہیں، اگر نیچے اُس پر اصلاح نہیں ہورہی تو مجھ تک پہنچائیں۔لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر جب وہ باتیں کرتے ہیں تو وہ لغو باتیں بن جاتی ہیں۔کیونکہ اس سے اصلاح نہیں ہوتی۔اُس میں فتنہ اور فساد اور جھگڑے مزید پیدا ہوتے ہیں۔پھر اس زمانے میں ٹی وی پر گندی فلمیں ہیں۔انٹرنیٹ پر انتہائی گندی اور غلیظ فلمیں ہیں۔ڈانس اور گانے وغیرہ ہیں۔بعض انڈین فلموں میں ایسے گانے ہیں جن میں دیوی دیوتاؤں کے نام پر مانگا جارہا ہوتا ہے، یا اُن کی بڑائی بیان کی جا رہی ہوتی ہے جس سے ایک اور سب سے بڑے اور طاقتور خدا کی نفی ہو رہی ہوتی ہے۔یا یہ اظہار ہو رہا ہو کہ یہ دیوی دیوتا جو ہیں، بت جو ہیں، یہ خدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔یہ بھی لغویات ہیں ، شرک ہیں۔شرک اور جھوٹ ایک چیز ہے۔ایسے گانوں کو بھی نہیں سنا چاہئے۔“ حضور انور ایدہ اللہ نے مزید فرمایا: پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَنِ تزغ فَاسْتَعِل باللوإنه هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (خم سجده (37) اگر تجھے 38