سوچنے کی باتیں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 46

سوچنے کی باتیں — Page 40

72 71 کے سامنے قرآن کریم کی ایک آیت پڑھ دی جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر آتا ہے اور میں نے کہا کہ اس کے معنی کیا ہیں۔حضرت ابو بکر نے اس آیت کی تفسیر بیان کی اور آگے چل پڑے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا غصہ آیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ مجھے کیا تفسیر کم آتی ہے کہ یہ مجھے اس کی تفسیر بتانے لگے ہیں۔خیر وہ گئے تو حضرت عمرؓ آگئے میں نے اپنے دل میں کہا یہ بڑا زیرک انسان ہے یہ ضرور میرے مقصد کو سمجھ لے گا چنانچہ میں نے ان کے سامنے بھی قرآن کی وہی آیت پڑھ دی اور کہا کہ اس کے معنی کیا ہیں انہوں نے بھی اس آیت کی تفسیر کی اور آگے چل پڑے مجھے پھر غصہ آیا کہ کیا عمر" مجھ سے زیادہ قرآن جانتے ہیں؟ میں نے تو اس لئے معنی پوچھے تھے کہ انہیں میری حالت کا احساس ہو مگر یہ ہیں کہ معنی کر کے آگے چل دیئے۔جب حضرت عمرؓ بھی چلے گئے تو میں سخت حیران ہوا کہ اب کیا کروں اتنے میں میرے کانوں میں ایک نہایت ہی شیریں آواز آئی کہ ابو ہریرہ کیا بھوک لگی ہے۔میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔پھر آپ نے فرمایا ادھر آؤ۔ہمیں بھی آج فاقہ تھا مگر ابھی ایک مسلمان نے دودھ کا پیالہ تحفہ بھیجا ہے پھر آپ نے فرمایا مسجد میں نظر ڈالو۔اگر کوئی اور شخص بھی بھوکا بیٹھا ہو تو اسے بھی اپنے ساتھ لے آؤ۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں مسجد میں گیا تو ایک نہ دو بلکہ اکٹھے چھ آدمی میرے ساتھ نکل آئے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ آج شامت آئی۔دودھ کا پیالہ تو مجھ اکیلے کے لئے بھی بمشکل کفایت کرتا مگر اب تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔بھلا جہاں سات آدمی دودھ پینے والے ہوں وہاں کیا بچ سکتا ہے مگر خیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا میں ان کو اپنے ہمراہ لے کر کھڑکی کے پاس پہنچا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ کا پیالہ بجائے مجھے دینے کے ان میں سے ایک کے ہاتھ میں دے دیا۔میں نے کہا۔بس اب خیر نہیں۔اس نے دودھ چھوڑنا نہیں اور میں بھوکا رہ جاؤں گا۔خیر اس نے کچھ دودھ پیا اور پھر چھوڑ دیا۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ شکر ہے کچھ تو دودھ بچا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دودھ دینے کی بجائے ایک دوسرے شخص کو پیالہ دیا کہ اب تم پیو۔جب وہ بھی سیر ہو کر پی چکا تو میں نے کہا اب تو میری باری آئے گی اور میں اس بات کا منتظر تھا کہ اب پیالہ مجھے دیا جائے گا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیالہ لے کر ایک اور شخص کو دے دیا اور میں نے سمجھا کہ بس اب خیر نہیں۔اب تو دودھ کا بچنا بہت ہی مشکل ہے مگر اس کے پینے کے بعد بھی دودھ بیچ رہا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور کو پیالہ دیا پھر اس کے بعد ایک اور کو دیا اسی طرح چھ آدمی جو میرے ساتھ آئے تھے سب کو باری باری دیا اور آخر میں مجھے دیا اور فرمایا ابو ہریرہ اب تم دودھ پیو۔میں ضمناً یہ ذکر کر دینا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے معجزات کوئی خیالی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء وصلحاء کو ایسے نشانات بھی دیتا ہے تا کہ ماننے والے اپنے یقین اور ایمان میں ترقی کریں مگر یہ نشانات صرف مومنوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں تا کہ ایمان میں غیب کا پہلو قائم رہے۔غرض حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے پیالہ لیا اور دودھ پینا شروع کر دیا اور اس قدر پیا اس قدر پیا کہ میری طبیعت بالکل سیر ہوگئی اور میں نے پیالہ رکھ دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ اور پیو میں نے پھر کچھ دودھ پیا اور پیالہ رکھ دیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ اور پیو۔سیر روحانی جلد اول صفحه ۱۶۶ تا ۱۶۷) www۔alislam۔org