سوچنے کی باتیں — Page 39
70 69 کہ ہم اس کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں یا نہیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔دستر خوان بچھا تو خاوند کہنے لگا روشنی کچھ کم ہے ذرا اونچی کر دو۔بیوی اٹھی اور اس نے چراغ کو بجھا دیا۔جب اندھیرا ہو گیا تو خاوند کہنے لگا آگ سلگاؤ اور چراغ روشن کرو۔بیوی نے کہا آگ تو ہے ابو ہریرہ ! اور پیو ย حضرت ابو ہریرہ کی دین کیلئے فاقہ کشی نہیں۔اس نے کہا ہمسایہ سے مانگ لو اس نے کہا اس وقت ہمسائے کو کون جا کر تکلیف دے۔بہتر یہی ہے کہ اسی طرح کھا لیا جائے۔مہمان بھی کہنے لگا اگر اندھیرا ہو گیا ہے تو کیا حرج ہے اسی طرح کھانا کھا ئیں گے۔چنانچہ اندھیرے میں ہی میاں بیوی اس کے قریب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔خاوند اور بیوی دونوں نے چونکہ مشورہ کیا ہوا تھا اس لئے مہمان تو کھاتا رہا اور وہ دونوں خالی منہ ہلاتے رہے اور یہ ظاہر کرتے رہے گویا وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں۔خیر کھا ناختم ہوا اور مہمان چلا گیا اللہ تعالیٰ کو ان دونوں میاں بیوی کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ رات کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دے دی۔جب صبح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا لوگو کچھ پتہ بھی ہے کہ رات کو کیا ہوا۔صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ہمیں تو معلوم نہیں اس پر آپ نے یہ تمام واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ جب میاں بیوی دونوں اندھیرے میں بیٹھے خالی منہ ہلا رہے تھے تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اس حرکت پر عرش پر ہنسا۔پھر آپ نے ہنستے ہوئے فرمایا جب اس بات پر اللہ تعالیٰ ہنسا ہے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیوں نہ ہنسے۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ صحابہ مہمان نوازی کو کس قدر اہم قرار دیتے تھے اور کس طرح مسجدوں کی طرح ان کے گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔سیر روحانی جلد اول صفحه ۱۶۲ - ۱۶۳) ☆☆☆✰ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری چھ سالوں میں داخل اسلام ہوا تھا اور چونکہ اسلام پر کئی سال گذر چکے تھے اس لئے میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ اب میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہوں گا تا کہ جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرمائیں میں فوراً سن لوں اور اسے دوسرے لوگوں تک پہنچا دوں۔چنانچہ انہوں نے مسجد میں ڈیرہ لگا لیا اور ہر وقت و ہیں بیٹھے رہتے۔ان کا بھائی انہیں کبھی کبھی کھانا بھجوا دیتا۔لیکن اکثر انہیں فاقے سے رہنا پڑتا۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ بعض دفعہ کئی کئی دن کا فاقہ ہو جاتا اور شدت بھوک کی وجہ سے میں بے ہوش ہو جا تا۔لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے اور وہ میرے سر میں جوتیاں مارنے لگ جاتے کیونکہ عرب میں ان دنوں مرگی کا علاج یہ سمجھا جاتا تھا کہ آدمی کے سر پر جوتیاں ماری جائیں۔غرض میں تو بھوک کے مارے بے ہوش ہوتا اور وہ مجھے مرگی زدہ سمجھ کر میرے سر پر تڑا تڑ جوتے مارتے چلے جاتے۔کہتے ہیں اسی طرح ایک دفعہ میں مسجد میں بھوکا بیٹھا تھا اور حیران تھا کہ اب کیا کروں مانگ میں نہیں سکتا تھا کیونکہ مانگتے ہوئے مجھے شرم آتی تھی اور حالت یہ تھی کہ کئی دن سے روٹی کا ایک لقمہ تک پیٹ میں نہیں گیا تھا۔آخر میں مسجد کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا کہ شاید کوئی مسلمان گذرے اور میری حالت کو دیکھ کر اسے خود ہی خیال آ جائے اور وہ کھانا بھجوا دے۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر چلے آ رہے ہیں میں نے ان www۔alislam۔org