سوچنے کی باتیں — Page 17
26 25 ادنی اعلیٰ پر قربان ہوتا ہے ایک مشہور واقعہ ہے اور ہندوستان کی تاریخ پڑھنے والے بچے بھی جانتے ہیں کہ جس وقت ہمایوں بادشاہ شیر شاہ سے شکست کھا کر بھاگا ہے۔اس وقت اس کا مشہور جرنیل بیرم خان دشمنوں کے قبضہ میں آ گیا جس کے ساتھ اس کا غلام بھی گرفتار ہوا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بیرم خان کون ہے؟ تو غلام نے کہا میں ہوں۔اس پر بیرم خان نے بہت کوشش کی کہ وہ اپنا آپ دشمنوں پر ظاہر کر دے اور انہیں یقین دلا دے کہ میں ہی بیرم خان ہوں لیکن اس کے غلام نے ایسا رنگ اختیار کیا اور ایسے طریق سے گفتگو کی کہ دشمنوں کو یقین آ گیا کہ وہی بیرم خان ہے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔اس طرح بیرم خان بچ گیا۔اگر چہ غلام نے جھوٹ سے کام لیا۔لیکن اس میں شک نہیں کہ اس نے اپنے آپ کو آقا پر قربان کر کے اس کی جان بچالی۔کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ میرے وجود کی نسبت اس کا وجود بہت قیمتی اور کارآمد ہے۔چنانچہ بیرم خاں ہمایوں کی اس مصیبت کے وقت میں بہت کام آیا اور اسی کے ذریعہ ہمایوں کو بہت سی فوج ملی جس سے اس نے ہندوستان کو دوبارہ فتح کیا۔یہ تو ایک شخص کی قربانی کا واقعہ ہے۔بعض جگہ تو ہزاروں اور لاکھوں انسانوں نے صرف ایک شخص کے لئے اپنی جان قربان کر دی ہے۔ابھی قریب ہی کے زمانہ میں ایک مشہور بادشاہ گذرا ہے جس کا نام نپولین تھا۔یہ ایک معمولی خاندان کا ممبر اور بہت ہی معمولی حیثیت کا انسان تھا۔حتی کہ مؤرخین کو اس کے والدین کے تاریخی حالات میں بھی شبہ پڑا ہوا ہے۔بعض اس کے والد کے متعلق کچھ لکھتے ہیں اور بعض کچھ۔یہ جزیرہ کا رسید کا کا رہنے والا تھا اور تعلیم پانے کے لئے فرانس میں آیا تھا۔لیکن اپنی دانائی اور ملک کی خیر خواہی کی وجہ سے آہستہ آہستہ فرانس کا بادشاہ بن گیا۔فرانس میں جب بغاوت اور فساد ہوا تو بادشاہ اسی کو بنایا گیا تھا۔نسلی یا خاندانی تو کوئی وجہ ایسی نہ تھی کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنا شہنشاہ بنا لیتے لیکن اس میں جو قابلیت اور ملک کی خیر خواہی تھی اس کی وجہ سے یہ مقام ایسا حاصل ہوا کہ بعض اوقات لاکھوں ہزاروں انسان اس کی خاطر اور اس کی حفاظت کرتے ہوئے ذبح ہو گئے۔آخری دفعہ واٹرلو کے میدان میں جب انگریزوں اور جرمنوں نے اس کو شکست دی ہے، اس وقت کے واقعات نہایت موثر اور رقت پیدا کرنے والے ہیں۔اس کے متعلق اسی کا ایک جرنیل لکھتا ہے کہ جس وقت نپولین کو یہ دھوکا لگ گیا کہ اس نے سمجھا کہ اس کی فوج کا وہ حصہ جسے اس نے پیچھے اپنی مدد کے لئے چھوڑ رکھا تھا کہ بعد میں آملے وہ آرہا ہے۔حالانکہ آنیوالی فوج دشمن کی فوج تھی اور وہ بالکل قریب آگئی تھی۔تو یہ خبر لے کر میں ہی نپولین کے پاس گیا۔جس وقت میں گیا تو ہماری ساری فوج پراگندہ ہو رہی تھی اور گولہ بارود بالکل ختم ہو چکا تھا۔آگے اور پیچھے دونوں طرف دشمن حملہ آور تھا۔اس خطر ناک صورت میں ہر ایک جرنیل نپولین کے پاس آتا اور کہتا کہ اب آپ میدان سے ہٹ جائیں لیکن اس کا یہی جواب تھا کہ جس میدان میں میں اپنے ملک کے نو جوانوں کو لا کر قربان کر رہا ہوں، اس سے خود کس طرح ہٹ جاؤں۔میں یہاں سے کبھی نہیں ہٹوں گا۔اس وقت تو پخانہ کے آدمی نہتے ہو کر نپولین کے گرد کھڑے تھے۔جن سے پوچھا گیا کہ جب تمہارے پاس لڑائی کا سامان نہیں تو کیوں نہیں ہٹ جاتے۔انہوں نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس سامان نہیں ہے لیکن ہم اس لئے میدان سے نہیں ہٹتے کہ ہمارے ہٹنے سے نپولین پکڑا جائے گا۔آخر اس کے گارڈ کے آدمی بھی کٹنے شروع ہو گئے بلکہ قریباً کٹ گئے تو بھی نپولین میدان سے ہٹ جانے پر آمادہ نہ ہوا اور اس کی جان۔www۔alislam۔org