سوچنے کی باتیں — Page 16
24 23 تو را شنان سو مورا شنان اس وقت ضرورت ہے کہ ( دین حق ) کے لئے اور سلسلہ احمدیہ کے لئے ہر ایک قربانی جس کی ضرورت ہو، کی جائے اور جب تک تم میں سے ہر ایک قربانی نہیں کرے گا، ان ترقیوں کے منہ نہیں دیکھ سکو گے جو مقدر ہیں۔زید و بکر کی قربانی تمہارے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔تمہارے لئے تمہاری اپنی ہی قربانی کام آنے والی ہے۔اگر تم دوسروں کی قربانیوں پر خوش ہو گئے تو تمہاری مثال ایسی ہی ہوگی جیسی کسی پنڈت کے متعلق مشہور ہے۔کہتے ہیں۔ایک پنڈت صبح کے نہانے کو فرض قرار دیتا تھا۔صبح کے وقت دریا پر گیا۔سردی کا موسم تھا اتنی تو جرات نہ ہوئی کہ دریا میں داخل ہو کر نہائے۔ایک کنکر اٹھا کر اس کو مخاطب کر کے کہنے لگا۔تو را شنان سوموراشنان یعنی تیرا نہانا میرا نہانا ہی ہے۔یہ کہہ کر کنکر دریا میں ڈال دیا۔راستہ میں ایک دوسرا پنڈت ملا۔اس نے کہا بھٹی کیسے نہائے۔اس نے ترکیب بتلائی۔اس پنڈت نے اسے مخاطب کر کے کہدیا کہ ” تو راشنان سوموراشنان‘ اور واپس آ گیا۔پس سید عبداللطیف اور عبدالرحمن خان کی قربانی کو اپنے لئے کافی نہ سمجھو کسی کی نماز سے اپنی نماز ادا نہیں ہوسکتی۔جو کچھ ان سے ظاہر ہوا، وہ ان کا کام تھا۔تم اپنا فرض آپ ادا کرنیکی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرماوے کہ ہم ان قربانیوں کو ادا کریں۔جن کی اس وقت ( دین حق) کے لئے ضرورت ہے اور ہمیں وہ دن نصیب کرے کہ ہم پوری ترقیاں دیکھیں اور ( دین حق ) اپنی اصلی شان میں آجائے۔( خطبات محمود جلد ۶ صفحه ۲۴۳ بحواله الفضل ۲۴ جون ۱۹۱۹ء) نادان ہے جو شمشیر کو دیکھتا ہے شمشیر بذات خود کچھ نہیں کرسکتی۔ہاں جب شمشیر زن کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو اس وقت کام کرتی ہے۔نادان ہے جو شمشیر کو دیکھتا ہے۔دانا وہی ہے جو شمشیر زن کو دیکھے۔مثل ہے کہ ایک بادشاہ کے لڑکے نے دیکھا کہ ایک سوار تلوار کے ایک وار میں جانور کے چاروں پاؤں کاٹ دیتا تھا۔اس زمانہ میں امتحان کے لئے چاروں پاؤں جانور کے باندھ کر کھڑا کر دیتے تھے اور شمشیر زن ایک وار میں چاروں پاؤں کاٹ دیتا تھا۔لڑکے نے اس سوار سے تلوار مانگی۔مگر اس نے کہا: میاں اس تلوار کو کیا کرو گے۔تمہارے ہاں اور بہت سی تلوار میں ہیں۔لڑکے نے اپنے باپ بادشاہ کو کہا کہ فلاں سوار سے میں نے اس کی تلوار مانگی تھی مگر وہ نہیں دیتا۔بادشاہ نے سوار کو بلا کر جھاڑا اور تلوار لے دی۔لڑکے نے تلوار چلائی۔مگر اس کے چاروں پیر تو کیا کھال بھی نہ کٹی۔اس نے بادشاہ سے کہا کہ سوار نے اس تلوار کی بجائے کوئی اور دے دی ہے۔سوار کو بادشاہ نے پھر بلایا۔تو اس نے کہا میں نے وہی تلوار دی ہے۔لائیے میں کاٹ کر دکھلاؤں۔چنانچہ سوار نے تلوار لے کر جانور کے چاروں پاؤں کاٹ دیئے۔تب بادشاہ سمجھ گیا کہ اصل میں یہ تلوار کا کام نہ تھا بلکہ اس شمشیر زن کا کام تھا۔خطبات محمود جلد ۶ صفحه ۵۵۶ بحواله الفضل ۶ دسمبر ۱۹۲۰ء) ☆☆☆ www۔alislam۔org ✰✰✰