سوچنے کی باتیں — Page 10
12 11 مصنوعی اور تکلف کا رونا انسان دوسرے کی باتوں کو سن کر ان جذبات اور احساسات کا قیاس نہیں کرسکتا۔جو دوسرے کے دل میں پیدا ہور ہے ہوتے ہیں۔اگر کسی کی اپنی مرغی بھی مر جائے تو اسے جتنا درد ہوتا ہے اتنا دردا سے دوسرے کے بیٹے کی وفات کی خبر سن کر نہیں ہوتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ دوسرے کے غم کی نقل کر کے اس سے ہمدردی کرتے ہیں۔ان کے دل میں کوئی رنج نہیں ہوتا۔اگر وہ سامنے آ جائے گا تو رونے والی شکل بنالیں گے اور ہمدردی کے چند الفاظ اپنے منہ سے نکال دیں گے لیکن ان کے دل غم کے جذبات سے بالکل خالی ہوں گے اس کے مقابلہ میں اگر ان کی اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ضائع ہو جائے تو وہ اس کے صدمہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ کوئی چوڑھی تھی جو بادشاہ کے گھر میں صفائی کیا کرتی تھی۔ایک دفعہ جب وہ شاہی محل سے باہر نکلی تو ڈیوڑھی کے اندر کھڑے ہو کر اس کی دیوار سے سر لگا کر اس نے رونا شروع کر دیا اور اس درد اور کرب کے ساتھ روٹی کہ باہر جو دربان کھڑے تھے انہوں نے سمجھا کہ شاہی خاندان میں کوئی موت واقع ہوگئی ہے۔چنانچہ اس خیال پر انہوں نے بھی بغیر سوچے سمجھے رونا شروع کر دیا اور دیوار سے لگ کر جھوٹی ہچکیاں لینی شروع کر دیں تا ایسا نہ ہو کہ ان کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ نمک حرام ہیں۔ان کو روتے دیکھ کر اوروں نے بھی رونا شروع کر دیا۔پھر اوروں نے۔یہانتک کہ درباریوں تک یہ بات پہنچ گئی۔چونکه درباریوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جب شاہی خاندان میں کوئی موت واقع ہو تو سیاہ لباس پہن کر آؤ۔اس لئے وہ دوڑ دوڑ کر اپنے گھر گئے اور ہر ایک کالا لباس پہن کر دربار میں سر نیچے جھکا کر بیٹھ گیا اور آنکھوں کے آگے رومال رکھ لیا۔تا یہ معلوم ہو کہ وہ رورہا ہے مگر جو سب سے بڑا وزیر تھاوہ کچھ مجھدار تھا وہ بغیر سیاہ لباس پہنے دربار میں آبیٹھا اور اس نے پاس والے سے پوچھا کہ کیا حادثہ ہوا ہے۔اس نے کہا مجھے تو پتہ نہیں ساتھ والے کو پتہ ہوگا۔میں نے اسے ماتمی لباس میں بیٹھا دیکھا تھا۔میں بھی پہن کر آ گیا کہ شاید شاہی خاندان میں کوئی حادثہ ہوا ہے۔اس سے پوچھا گیا تو اس نے آگے سے اپنے پاس والے کا حوالہ دیا اور اس نے تیسرے کا اور اس نے چوتھے کا۔آخر در بانوں تک بات پہنچی اور انہوں نے چوڑھی کا حوالہ دیا جب اسے بلا کر پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ اللہ رکھے قلعہ میں تو ہر طرح خیریت ہے۔بات یہ ہے کہ میں نے ایک سور کا بچہ پال رکھا تھا۔آج صبح وہ مر گیا تو صفائی کا وقت قریب تھا اس لئے میں جلدی سے محلات میں آگئی۔اور جذبات کو دبائے رکھا لیکن جب محل سے باہر آئی تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا۔اور ڈیوڑھی میں مجھے رونا آ گیا۔اب وہ جذبات جو اس چوڑھی کے دل میں دبے ہوئے تھے وہ چونکہ انہیں نکال نہیں سکی تھی اس لئے جب تک وہ صفائی میں مشغول رہی جذبات دبے رہے۔مگر جب اس کا کام ختم ہو گیا اور اس کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تو اس نے بے تاب ہوکر رونا شروع کر دیا۔اور باقیوں نے اس کی بے تابی کو دیکھ کر یہ قیاس کیا کہ اس قدر غم کسی بڑے حادثہ پر ہی ہو سکتا ہے اور اس کی نقل میں رونی شکل بنا کر چیخنا شروع کر دیا۔اور انہوں نے سمجھا کہ بادشاہ یا اس کی بیگم مرگئی ہے۔مگر بہر حال ان کا رونا مصنوعی رونا تھا۔اور اس چوڑھی کا رونا حقیقی رونا تھا کیونکہ سو رنی کا بچہ چوڑھی کا اپنا تھا اور اس کے مرنے پر اس نے حقیقی در دمحسوس کیا مگر دربان اور درباری گو بادشاہ یا اس کی ملکہ یا کسی شہزادہ کو رورہے تھے۔مگر ان کا رونا مصنوعی تھا کیونکہ بادشاہ یا ملکہ سے ان کا حقیقی تعلق نہ تھا۔تو اپنی قلیل سے قلیل تکلیف بھی بڑی معلوم ہوتی ہے اور دوسرے کی بڑی سے بڑی تکلیف بھی چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔( خطبات محمود جلد ۲ صفحه ۲۱۱ تا ۲۱۳۔بحواله الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۳۸ء) ☆☆☆ www۔alislam۔org