سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 259

سرّالخلافة — Page 72

سر الخلافة ۷۲ اردو تر جمه والعجب أن الشيعة يُقرون عجیب بات یہ ہے کہ شیعہ حضرات یہ اقرار بھی بأن أبا بكر الصديق آمن فی أیام کرتے ہیں کہ (حضرت) ابوبکر صدیق دشمنوں كثرة الأعداء ، ورافق المصطفی کی کثرت کے ایام میں ایمان لائے اور آپ نے في ساعة شدّة الابتلاء ، وإذا خرج ابتلا کی سخت گھڑی میں ( حضرت محمد ) مصطفی علی رسول الله صلعم فخرج معه کی رفاقت اختیار کی اور جب رسول اللہ علی بالصدق والوفاء ، وحمل (مکہ) سے نکلے تو آپ بھی کمال صدق و وفا۔التكاليف وترك المألف حضور کی معیت میں نکل کھڑے ہوئے اور تکالیف والأليف، وترك العشيرة كلها برداشت کیں اور وطن مالوف اور دوست احباب واختار الربّ اللطیف ، ثم حضر اور اپنا پورے کا پورا خاندان چھوڑ دیا اور خدائے كل غزوة وقاتل الكفار وأعان لطيف کو اختیار فرمایا۔پھر ہر جنگ میں آپ شریک النبي المختار، ثم جُعل خليفة ہوئے۔کفار سے لڑے اور نبی (احمد ) مختار علی في وقت ارتدت جماعة من کی مدد کی۔پھر آپ اس وقت خلیفہ بنائے گئے المنافقين، وادعى النبوة كثير جب منافقوں کی ایک جماعت مرتد ہوگئی اور بہت من الكاذبين، فحاربهم سے کا زبوں نے دعویٰ نبوت کر دیا۔جس پر آپ وقاتلهم حتى عادت الأرض ان سے جنگ وجدال کرتے رہے یہاں تک کہ إلى أمنها وصلاحها وخاب ملک میں دوبارہ امن وامان ہو گیا اور فتنہ پردازوں حزب المفسدين۔کا گروہ خائب و خاسر ہوا۔ثم مات ودفن عند قبر سید پھر آپ فوت ہوئے اور سید الانبیاء اور معصوموں النبيين وإمام المعصومين، وما کے امام (ع) کی قبر کے پہلو میں دفن کئے گئے۔فارق حبيب الله ورسوله اور آپ خدا کے حبیب اور اس کے رسول ﷺ سے لا في الحياة ولا فى الممات جدا نہ ہوئے نہ زندگی میں اور نہ موت کے بعد۔