سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 259

سرّالخلافة — Page 69

سر الخلافة ۶۹ اردو تر جمه بل ساقط من الأساس، وليس بلکہ بے بنیاد ہے اور تمام لوگوں کے رب کا کلام كلام رب الأناس ، بل مجموعة نہیں۔بلکہ وہ تحریف کرنے والوں کے کلمات کا كلمات المحرفين۔فإنهم كلهم مجموعہ ہے اور بات یہ ہے کہ تمام صحابہ اُن کے كانوا خائنين و غاصبين بزعمهم عقیدہ کے مطابق خائن اور غاصب تھے اور ان میں وما كان أحد منهم أمينا و من سے کوئی ایک بھی امین اور دیندار شخص نہ تھا۔اگر یہ المتدينين۔فإذا كان الأمر معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر کس چیز پر ان کے دین کا كذلك فعلى ما عوّلوا في دينهم؟ انحصار ہے؟ اور ان کو دین سکھانے کے لئے ان کے وأى كتاب من الله في أيديهم ہاتھوں میں اللہ کی کونسی کتاب ہے؟ لہذا ثابت ہوا لتلقينهم؟ فثبت أنهم قوم کہ یہ ایک ایسی محروم قوم ہے جن کا نہ تو کوئی دین ہے محرومون لا دين لهم ولا كتاب اور نہ کوئی دینی کتاب۔کیونکہ اس قوم نے جب یہ الدين۔فإن قوما إذا فرضوا أن فرض كرلیا کہ تمام صحابہ کا فراور منافق ہو گئے الصحابة كفروا ونافقوا وارتدوا اپنی ایڑیوں پر پھر گئے اور شرک کیا اور کفر کے گند على أعقابهم وأشركوا، واتسخوا سے آلودہ ہوئے اور پاکیزگی اختیار نہ کی تو پھر بوسخ الكفر وما تطهروا، فلا بد انہیں یہ اقرار کرنے کے بغیر چارہ نہیں کہ قرآن لهم أن يُقروا بأن القرآن ما بقی اپنی صحت پر باقی نہیں رہا۔اور اپنی اصل صورت على صحته وحرف وبدل عن سے محرف و مبدل ہو گیا ہے اور اس میں کمی بیشی صورته وزيد ونُقص، وغیر من کر دی گئی ہے اور اس کی ہیئت تبدیل کر دی گئی سحنته وقيد إلى غير حقيقته، فإن ہے۔اور اپنی اصل حقیقت پر قائم نہیں رہا۔اور هذا الإقرار لزمهم ضرورةً بعد یہ اقرار مجبورا ان کے اس امر پر جرات کے إصرارهم جرأةً على أن القرآن ما اصرار کے بعد لازم ہو گیا کہ قرآن کریم کی (۲۲) شاع من أيدى المؤمنين الصالحين، اشاعت صالح مومنوں کے ہاتھوں نہیں ہوئی