سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 259

سرّالخلافة — Page 2

سر الخلافة اردو تر جمه والمستكبرين، الذين يبلعون نیز ان متکبروں کے لئے جو (معرفت ) کے میناو الريق، ويرفضون الكأس جام کو ٹھکرا کر تھوک نگل رہے ہیں اور راستبازوں والإبريق، ويُعادون الصادقين سے دشمنی کرتے ہیں ، ہم تمام اسباب منقطع کرتے يتركون الحقائق لأوهام ہوئے اور ان کے غم اپنے پیٹوں میں پالتے ہوئے ومــاكــــانـــت ظـنـونـهـم إلا تیری بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں۔وہ اوہام کے لئے حقائق چھوڑ دیتے ہیں۔ان کے واہمے محض ایسے بادل کی طرح ہیں جس میں پانی نہیں ہوتا۔وہ أهل المعارف إلا متكاسلين، صاحبان معرفت کے پاس کاہلوں کی طرح آتے ولا ينظرون الحق إلا ہیں اور حق کو محض کھلنڈروں جیسی نگاہ سے دیکھتے كمُخلفة أو جهام، ولا يجيئون لاعبين۔وهجمتهم أوهامهم ہیں۔ان کے اوہام نے ان پر ایسا وار کیا ہے جیسے كالبلاء المفاجي في کسی تاریک و تاررات میں کوئی بلائے ناگہانی وارد الليل الداجي، فصار العقل ہو جائے۔جس کے نتیجے میں (ان کی ) عقل ایسی كالظلف الواجى فسقطوا ہو گئی ہے جیسے کسی حیوان کا زخمی گھسا ہوا پاؤں۔على أنفسهم مُكبّين۔والتحصهم بنا بر ایں وہ اپنے منہ کے بل گرے ہوئے ہیں۔تعصبهم إلى الإنكار، وأسفوا ان کے تعصب نے انہیں انکار پر مجبور کیا۔اور على الواعظین، وولوا انہوں نے نصیحت کرنے والوں پر غم و غصے کا اظہار الدبر كالفرار۔وامتلأوا کیا راہ فرار اختیار کرنے والے کی طرح پیٹھ پھیری۔حشنة وحقدًا، ونقضوا وہ بغض اور کینہ سے بھر گئے اور انہوں نے عہد و عهدا وعقدًا، وطفقوا پیمان توڑ دیئے۔اور اپنے خیر خواہوں کو گالیاں يسبون الناصحين۔وما كان دینے لگے۔ان میں کند ذہنی کے مادہ کے سوا جس فيهم إلا مادة غباوة، رُكَّبَ باثارة، میں چغل خوری کی آمیزش ہے اور کچھ بھی نہیں۔