سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 259

سرّالخلافة — Page 48

سر الخلافة ۴۸ اردو تر جمه وارتد كثير من المنافقين، بہت سے منافق مرتد ہو گئے اور مرتدوں کی وتطاولت السنة المرتدين، وادعى زبانیں دراز ہو گئیں اور افترا پردازوں کے النبوة نفر من المفترین واجتمع ایک گروہ نے دعوی نبوت کر دیا اور اکثر بادیہ عليهم كثير من أهل البادية، حتى نشین ان کے گرد جمع ہو گئے یہاں تک کہ مسیلمہ لحق بمسيلمة قريب من مائة کذاب کے ساتھ ایک لاکھ کے قریب جاہل ألف من الجهلة الفجرة، وهاجت اور بدکردار آدمی مل گئے اور فتنے بھڑک الفتن وكثرت المحن، وأحاطت اُٹھے اور مصائب بڑھ گئے۔اور آفات نے البلايا قريبا وبعيدا، وزُلزل دور و نزدیک کا احاطہ کر لیا۔اور مومنوں پر ایک المؤمنون زلزالا شديدا۔هنالك شدید زلزلہ طاری ہو گیا۔اس وقت تمام لوگ ابتليت كل نفس من الناس، آزمائے گئے اور خوفناک اور حواس باختہ کرنے وظهرت حالات مخوفة مدهشة والے حالات نمودار ہو گئے اور مومن ایسے الحواس، وكان المؤمنون لاچار تھے کہ گویا ان کے دلوں میں آگ کے مضطرين كأن جَمُرًا أُضرمت فی انگارے دہکائے گئے ہوں یا وہ چھری سے ذبح صلى الله قلوبهم أو ذُبحوا بالسكين کر دیئے گئے ہوں کبھی تو وہ خیر البریہ (ﷺ) وكانوا يبكون تارة من فراق کی جدائی کی وجہ سے اور گا ہے ان فتنوں کے خير البرية، وأخرى من فتن باعث جو جلا کر بھسم کر دینے والی آگ کی ظهرت كالنيران المحرقة صورت میں ظاہر ہوئے تھے روتے۔امن کا ولم يكن أثرًا من أمن، وغلبت شائبہ تک نہ تھا۔فتنہ پرداز گند کے ڈھیر پر اُگے المفتتنون كخضراء دِمُنِ، فزاد ہوئے سبزے کی طرح چھا گئے تھے۔مومنوں کا المؤمنون خوفًا وفزعًا، وملئت خوف اور ان کی گھبراہٹ بہت بڑھ گئی تھی۔القلوب دهشا و جزعا اور دل دہشت اور بے چینی سے لبریز تھے۔