سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 259

سرّالخلافة — Page 47

سر الخلافة है ۴۷ اردو تر جمه فمن أتى الله للاستماحة، وما | پس جو شخص خدا کے حضور عفو کا طالب ہوکر سلك مسلك الوقاحة، وما آتا ہے اور بے حیائی کی راہ پر نہیں چلتا اور شد جبائر التلبيس على ساعد صراحت کی کلائی پر حق پوشی کی پٹیاں نہیں الصراحة، فلا بد له من أن يقبل باندھتا تو ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ هذا الدليل، ويترك المعاذير وہ اس دلیل کو قبول کرے اور نا معقول عذر والأقاويل، ويأخذ طرق اور بیہودہ باتیں ترک کردے اور نیک لوگوں کی راہیں اختیار کرے۔الصالحين۔وأما تفصيله ليبدو عليك دليله جہاں تک تم پر اس دلیل کی وضاحت کے فاعلموا يا أولى الألباب والفضل لئے تفصیل کا تعلق ہے تو اے اہلِ دانش اللباب أن الله قد وعد فى هذه وفضيلت جان لو کہ اللہ نے تمام مسلمان الآيات للمسلمين والمسلمات أنه مردوں اور عورتوں سے ان آیات میں یہ سيستخلفنّ بعض المؤمنين منهم وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے فضل اور رحم سے فضلا ورحما، ويبدلنهم من بعد ان میں سے بعض مومنوں کوضرور خلیفہ خوفهم أمنًا ، فهذا أمر لا نجد بنائے گا اور ان کے خوف کو ضرور امن کی مصداقه على وجه أتم وأكمل إلا حالت میں بدل دے گا۔اس امر کا اتم اور خلافة الصديق، فإن وقت خلافته اكمل طور پر مصداق ہم حضرت صدیق كان وقت الخوف والمصائب (اکبر) کی خلافت کو ہی پاتے ہیں۔کیونکہ كما لا يخفى على أهل التحقيق۔جیسا کہ اہل تحقیق سے یہ امر مخفی نہیں کہ آپ فإن رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خلافت کا وقت خوف اور مصائب کا وقت وسلم لما توفّى نزلت المصائب تھا۔چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی على الإسلام والمسلمين، تو اسلام اور مسلمانوں پر مصائب ٹوٹ پڑے۔