سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 259

سرّالخلافة — Page 215

سر الخلافة ۲۱۵ اردو تر جمه اتارا ہم نے چار پائے اتارے۔اور ایلیا یعنی یوحنا کے قصہ سے جس پر یہود اور نصاریٰ کا اتفاق ہے اور بائیبل میں موجود ہے صاف کھل گیا ہے کہ فوت شدہ انبیاء کا نزول اس دنیا میں روحانی طور پر ہوا کرتا ہے نہ جسمانی۔وہ آسمان سے تو ہرگز نہیں نازل ہوتے مگر اُن کی روحانی خصلتیں کسی مثیل میں باذن اللہ داخل ہو کر روحانی طور پر نازل ہو جاتی ہیں اور ان کی ارادات کا شخص مثیل پر ایک سایہ ہوتا ہے اس لئے اُس مثیل کا ظہور مُمَثَلُ بِہ کا نزول سمجھا جاتا ہے۔بعض اولیاء کرام نے بھی اس قسم کے نزول کا تصوف کی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔غرض عند اللہ ی قسم بھی ایک نزول کی قسم سے ہے اور اگر یہ نزول نہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کی کتابیں باطل ہوتی ہیں۔ایلیا کا قصہ جو بائبل میں موجود ہے ایک ایسا مشہور واقعہ ہے جو یہود اور نصاری دونوں فرقوں میں مسلّم ہے اور یہ کمال حماقت ہوگی کہ ہم یہ کہیں کہ ان دونوں فرقوں نے باہم مل کر اس مقام کی آیات کو تحریف کر دیا ہے بلکہ نصاری کو یہ قصہ نہایت ہی مضر پڑا ہے اور اگر اس جگہ نزول ایلیا کے ظاہری معنے کریں تو یہود بچے ٹھہرتے ہیں اور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سچے نبی نہیں تھے کیونکہ اب تک حضرت ایلیا علیہ السلام آسمان سے نازل نہیں ہوئے اور بائیبل کے رو سے ضرور تھا کہ وہ حضرت مسیح سے پہلے نازل ہو جاتے۔حضرت مسیح کو یہ ایک بڑی دقت پیش آئی تھی کہ یہود نے ان کی نبوت میں یہ عذر پیش کر دیا جو در حقیقت ایک پہاڑ کی طرح تھا۔پس اگر یہ جواب صحیح ہوتا کہ نزول ایلیا کا قصہ محرف ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام یہود کے آگے اسی جواب کو پیش کرتے اور کہتے کہ یہ بات سرے سے ہی جھوٹ ہے کہ ایلیا پھر دنیا میں آئے گا اور ضرور ہے کہ وہ مسیح سے پہلے بجسمہ العصر کی آسمان سے اتر آوے۔مگر انہوں نے یہ جواب نہیں دیا بلکہ آیت کی صحت کو مسلم رکھ کر نزول کو نزول روحانی ٹھہرایا۔اور انہیں تاویلوں کے سبب سے یہودیوں نے انہیں ملحد کہا اور بالاتفاق فتوی دیا کہ یہ شخص بے دین اور کافر ہے کیونکہ نصوص توریت کو بلا قرینہ صارفہ ان کے ظاہری معنوں سے پھیرتا ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام تحریف کا عذر پیش کر دیتے اور کہہ