سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 259

سرّالخلافة — Page 214

سر الخلافة ۲۱۴ اردو تر جمه کیا انہوں نے بھی توفی کے معنی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم اور کسی صحابی سے ثابت کئے جیسا کہ ہم نے کئے ہیں اور پھر بھی ہم اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر ہمارے مخالف اس ثبوت کے مقابل پر جو توقفی کی نسبت ہم نے پیش کیا اب بھی کوئی دوسرا ثبوت پیش کریں یعنی توفی کے معنوں کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور حدیث ہم کو دکھلاویں اور اس کے ساتھ کسی اور صحابی کی طرف سے بھی توفی کے معنی تائیدی طور پر پیش کریں اور بخاری جیسے کسی امام حدیث کی بھی ایسی ہی شہادت توفی کے معنوں کے بارہ میں پیش کر دیں تو ہم اس کو قبول کر لیں گے مگر یہ کیسی چالا کی ہے کہ خود تو حدیث اور قرآن کو چھوڑ دیں اور الٹا ہم پر الزام دیں کہ یہ فرقہ قرآن اور حدیث سے باہر ہو گیا ہے۔اے مخالف مولو یو خدا تم پر رحم کرے ذرہ غور سے توجہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے مقام متنازعہ فیہ میں توفی کے معنی بجز مارنے کے اور کچھ بھی ثابت نہیں ہوئے اور جو شخص اس ثابت شدہ معنی کو چھوڑتا ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر بالرائے کرتا ہے کیونکہ حدیث کی رو سے بجز مارنے کے اور کوئی معن توفی آیت متنازعہ فیہ میں منقول نہیں۔اسی وجہ سے شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنی تفسیر فوز الکبیر میں جو صرف آثار نبوی اور اقوال صحابہ کے التزام سے کی گئی ہے متوفيك کے معنے صرف مميتك لکھے ہیں۔اگر ان کو کوئی مخالف قول ملتا تو ضرور وہ او کے لفظ سے وہ معنے بھی بیان کر جاتے۔اب ہمارے مخالفوں کو شرم کرنا چاہیئے کہ کیوں وہ نصوص صریحہ کو صریح چھوڑ بیٹھے ہیں۔پس اے بے باک لوگو خدا تعالیٰ سے ڈرو۔کیا تم نے ایک دن مرنا نہیں۔اور نزول کے لفظ پر آپ لوگ نازنہ کریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کا کچھ فیصلہ نہیں فرمایا کہ یہ نزول کن معنوں سے نزول ہے۔کیونکہ نزول کئی قسم کے ہوا کرتے ہیں اور مسافر بھی ایک زمین سے دوسری زمین میں جا کر نزیل ہی کہلاتا ہے۔قرآن کریم میں اُن نزولوں کا بھی ذکر ہے جو روحانی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو ہم نے لوہا اتارا ہم نے لباس