سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 259

سرّالخلافة — Page 211

سر الخلافة ۲۱۱ اردو ترجمه شیخ محمد حسین بطالوی کا ہمارے کا فر ٹھہرانے پر اصرار اور ہماری طرف سے ہمارے اسلامی عقیدہ کا ثبوت اور نیز شیخ صاحب موصوف کے لئے ستائیس روپیہ کا انعام اگر وہ رسالہ سر الخلافہ کے مقابل پر رسالہ لکھ کر شائع کریں۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم نے ایک ذرہ اسلام سے خروج نہیں کیا بلکہ جہاں تک ہمارا علم اور یقین ہے ہم اُن سب باتوں پر قائم اور راسخ ہیں جو نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے ثابت ہوتی ہیں اور ہمیں بڑا افسوس ہے کہ شیخ محمد حسین صاحب اور دوسرے ہمارے مخالفوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ ہمیں کافر اور دجال بنایا اور خلود جہنم ہماری سزا ٹھہرائی بلکہ قرآن اور حدیث کو بھی چھوڑ دیا اور ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہم اُن کی نفسانی خواہشوں اور غلطیوں اور خطاؤں کو تو کسی طرح قبول نہیں کر سکتے لیکن اگر کوئی سچی بات اور کتاب اللہ اور حدیث کے موافق کوئی عقیدہ اُن کے پاس ہو جس کے ہم بفرض محال مخالف ہوں تو ہم ہر وقت اس کے قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ہم نے انہیں دکھلا دیا اور ثابت کر دیا کہ توفی کے لفظ میں کتاب الہی کا عام محاورہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بول چال کا عام محاورہ اور صحابہ کی روز مرہ بول چال کا عام محاورہ اور اس وقت سے آج تک عرب کی تمام قوم کا عام محاورہ مارنے کے معنوں پر ہے نہ اور کچھ۔اور ہم نے یہ بھی دکھلایا کہ جو معنی توفی کے لفظ میں رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے ثابت ہوئے وہ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے بخاری کھول کر دیکھو اور پاک دل کے ساتھ اس آیت میں غور کرو کہ میں قیامت کے دن اُسی طرح فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کہوں گا جیسا کہ ایک عبد صالح یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا اور سوچو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کلمہ لفظ توفی کے لئے کیسی ۷۵ ) ایک تفسیر لطیف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی تغییر اور تبدیل کے لفظ متنازعہ فیہ کا مصداق اپنے تئیں ایسا ٹھہرالیا جیسا کہ آیت موصوفہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس کے