سرّالخلافة — Page 210
سر الخلافة ۲۱۰ اردو ترجمہ انسانی ہمدردی کی خصلتیں بتمامہا ان کے اندر سے مسلوب ہوگئی ہیں یا خالق حقیقی نے پیدا ہی نہیں کیں۔خدا تعالیٰ ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے۔نا معلوم کہ ہمارے اس بیان سے وہ لوگ کس قدر جلیں گے اور کیسے منہ مروڑ مروڑ کر کافر کہیں گے مگر ہمیں ان کی اس تکفیر کی کچھ پرواہ نہیں۔ہر ایک شخص کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ہمیں قرآن شریف کی کسی آیت میں یہ تعلیم نظر نہیں آتی کہ بے اتمام حجت مخالفوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جاوے۔ہمارے سید ومولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ برس تک کفار کے جور و جفا پر صبر کیا۔بہت سے دکھ دیے گئے دم نہ مارا۔بہت سے اصحاب اور عزیز قتل کئے گئے ایک ذرا مقابلہ نہیں کیا اور دکھوں سے پیسے گئے مگر سوائے صبر کے کچھ نہیں کیا۔آخر جب کفار کے ظلم حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے چاہا کہ سب کو قتل کر کے اسلام کو نابود ہی کر دیں تب خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو اُن بھیٹریوں کے ہاتھ سے مدینہ میں سلامت پہنچا دیا۔حقیقت میں وہی دن تھا کہ جب آسمان پر ظالموں کو سزا دینے کے لئے تجویز بھہر گئی۔تادلِ مرد خد ا نامد بدرد۔بیچ قومے را خدا رسوا نکرد مگر افسوس کہ کافروں نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ قتل کے لئے تعاقب کیا اور کئی چڑھائیاں کیں اور طرح طرح کے دکھ پہنچائے۔آخر وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اپنے بے شمار گناہوں کی وجہ سے اس لائق ٹھہر گئے کہ اُن پر عذاب نازل ہو۔اگر ان کی شرارتیں اس حد تک نہ پہنچتیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز تلوار نہ اٹھاتے مگر جنہوں نے تلوار میں اٹھا ئیں اور خدا تعالیٰ کے حضور میں بے باک اور ظالم ثابت ہوئے وہ تلواروں سے ہی مارے گئے۔غرض جہاد نبوی کی یہ صورت ہے جس سے اہلِ علم بے خبر نہیں اور قرآن میں یہ ہدایتیں موجود ہیں کہ جو لوگ نیکی کریں تم بھی ان کے ساتھ نیکی کرو۔جو تمہیں پناہ دیں اُن کے شکر گزار بنے رہو اور جو لوگ تمہیں دکھ نہیں دیتے ان کو تم بھی دکھ مت دو۔مگر اس زمانہ کے مولویوں کی حالت پر افسوس ہے کہ وہ نیکی کی جگہ بدی کرنے کو تیار ہیں اور ایمانی روحانیت اور انسانی رحم سے خالی۔اللهم اصلح امة محمد صلى الله عليه وسلم۔امين