سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 259

سرّالخلافة — Page 200

سر الخلافة ۲۰۰ اردو تر جمه فإنك إذا قلت إن أبا بكر كيونكہ جب تو یہ کہتا ہے کہ ابوبکر کا فر ہیں تو تو كافر، فقد هيجت محب صدیق اکبر سے محبت کرنے والے کو جوش دلاتا الصديق الأكبر لأن يقول إن ہے کہ وہ یہ کہے کہ علی اُن سے بڑھ کر کا فر ہیں۔عليا أكفرُ؛ فما شتمت اس طرح تو نے صدیق کو گالی نہیں دی بلکہ علی الصديق، بل شتمت علیا کو گالی دی ہے۔اور تو تو نے طریق ادب سے و جاوزت الطريق۔وإنك لا تجاوز کیا۔کیونکہ تو کسی کے باپ کو اس لئے گالی تسب أبا أحد لئلا يسبّوا نہیں دیتا کہ وہ تیرے باپ کو گالی نہ دے۔اسی أباك، وكذلك لا تشتم أُمَّ مَن طرح تو اُس شخص کی ماں کو گالی نہیں دیتا جو تجھ سے عاداك، ولكن لا تبالى عزّةَ عداوت رکھتا ہے لیکن تو خانوادہ نبوت کی عزت کی بيت النبوة، ولا تعصمهم من پرواہ نہیں کرتا او را نہیں اس سلسلہ سب وشتم کی سوء هذه السلسلة، ولا تنظر إلى تكليف سے نہیں بچاتا اور شیعہ ہونے کے دعوے فساد النتيجة مع دعاوى التشيع کرنے اور محبت کی لاف زنی کرنے کے باوجود تو وتصلف المحبّة، فكل ذنب اس کے نتیجہ کی برائی کی طرف نہیں دیکھتا۔پس السبّ على عنقك يا عدو آل اے رسول اللہ کی آل اور پنجتن پاک کے دشمن اور رسول الله والخمسة المطهرة منا فق طبع شخص ! اس سب وشتم کا تمام تر گناہ تیری ومتطبعا لطباع المنافقين۔گردن پر ہے۔