سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 259

سرّالخلافة — Page 190

۶۶ سر الخلافة ۱۹۰ اردو ترجمہ وَبَارَى مُلُوكَ الْكُفْرِ فِى كُلِّ مَعْرِكَ وَأَهْلَكَ كُلَّ مُبَارِزِ مُتَكَبِّرِ اور اس نے کافر بادشاہوں سے ہر معرکے میں مقابلہ کیا اور ہر متکبر جنگجو کو ہلاک کر دیا۔بقيةالحاشية: مكان ابي بكر من النبي بقیہ حاشیہ:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک صلى الله عليه وسلم حضرت ابوبکر کا مقام وقال ابن خلدون ثم قال رسول الله صلى ابن خلدون کہتے ہیں کہ ”پھر رسول اللہ ﷺ نے تین باتوں کی الله عليه وسلم بعد ما اوصى بثلاث سدوا وصیت کرنے کے بعد فرمایا: ابوبکر کے دروازے کے سوا مسجد میں هذه الابواب في المسجد الا باب ابي بكر کھلنے والے سب دروازے بند کر دو! کیونکہ میں تمام صحابہ میں فاني لا اعلم امرء افضل يدا عندي في الصحبة احسان میں کسی کو بھی ابوبکر سے زیادہ افضل نہیں جانتا۔“ من ابي بكر۔(الجزء الثاني صفحه ۶۲) ( الجزء الثانی صفحه ۶۲) شدة حب ابي بكر للنبي صلى الله عليه وسلّم نبی کریم ﷺ سے حضرت ابو بکر کی انتہائی محبت وذكر ابن خلدون واقبل ابوبکر و دخل ابن خلدون نے ذکر کیا ہے کہ ” (حضرت) ابوبکر آئے اور على رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کے چہرے سے فكشف عن وجهـه وقـبـلـه وقـال بابی انت چادر ہٹائی اور آپ کو بوسہ دیا اور کہا : ” میرے ماں باپ آپ و أمي قد ذقت الموتة التي كتب الله پر قربان، اللہ نے جو موت آپ کے لئے مقدر کی تھی اُس کا مزہ عليك ولن يصيبك بعدها موتة آپ نے چکھ لیا۔لیکن اب اس کے بعد بھی آپ پر موت نہیں آئے گی۔“ ( ایضاً صفحہ ۶۲) ابدًا (ایضًا صفحه ۶۳) وكان من لطائف منن الله عليه واختصاصه اللہ کے لطیف احسانات میں سے جو اُس نے آپ پر فرمائے اور بكمال القرب من النبي صلى الله عليه وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کمال قرب کی جو خصوصیت آپ کو حاصل كما نص به ابن خلدون انه رضی الله عنه تھی ، جیسا کہ ابن خلدون نے بیان کیا ہے وہ یہ ھی کہ ابوبکر اُسی چار پائی حمل على السرير الذي حمل عليه رسول الله حمل عليه رسول اللہ پر اُٹھائے گئے جس پر رسول اللہ ﷺ کو اٹھایا گیا تھا۔اور آپ کی قبر کو صلى الله عليه وسلم و جعل قبره مثل قبر النبي بھی نبی کریم ﷺ کی قبر کی طرح ہموار بنایا گیا۔اور ( صحابہ نے ) آپ مسطحا والصقوا لحده بـلـحـد النبي صلعم کی لحد کو نبی کریم کی لحد کے بالکل قریب بنایا اور آپ کے سر کو رسول اللہ وجعل رأسه عند كتفى النبي صلى الله عليه صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے متوازی رکھا۔آپ نے جو وسلم وكان آخـر مـا تـكـلـم به توفنی مسلما آخری کلمہ ادا فرمایا وہ یہ تھا کہ (اے اللہ ! ) مجھے مسلم ہونے کی حالت والحقني بالصالحين۔(صفحه ۱۷۶) میں وفات دے اور مجھے صالحین میں شامل فرما۔(صفحہ ۱۷۶) ولنكتب هنا كتابا كتبه الصديق الى قبائل مناسب ہے کہ ہم یہاں وہ خط درج کر دیں جو صدیق العرب المرتدة ليزيد المطلعون عليه اکبر نے مرتد ہونے والے قبائل عرب کی طرف لکھا تا کہ ايمانا وبصيرة بصلابة الصديق فى ترویج اس مخط پر اطلاع پانے والے، صدیق اکبر کی شعائر اللہ کی شعائر الله والذب عن جميع ماسنه ترویج اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام سنن کے رسول الله صلى الله عليه وسلم دفاع میں مضبوطی کو دیکھ کر ایمان اور بصیرت میں ترقی کریں۔