سرّالخلافة — Page 188
سر الخلافة ۱۸۸ اردو ترجمہ وَصَبَّغَ وَجْهَ الْأَرْضِ مِنْ قَتْلِ كَفْرَةٍ فَيَاعَجَبًا مِنْ عَزْمِهِ الْمُتَشَمِّرِ اور اس نے زمین کی سطح کو کفار کے قتل سے رنگ دیا پس اس کا عزم مصمم کیا ہی عجیب تھا۔بقية الحاشية: فتنة الارتداد بعد وفات بقیہ حاشیہ:۔بندوں کے امام اور خیر الرسل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی النبی صعلم خير الرسل و امام العباد وفات کے بعد فتنہ ارتداد لما قبض رسول الله صلى الله عليه ” جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو عرب مرتد ہو گئے یا تو وسلم ارتدت العرب اما القبيلة مستوعبة پورے کا پورا قبیلہ یا اُن کا کچھ حصہ۔نفاق پیدا ہو گیا اور مسلمان اپنی و اما بعض منها و نجم النفاق والمسلمون قلت کی وجہ سے اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے نیز اپنے نبی کی كالغنم في الليلة الممطرة لقلتهم وكثرة وفات سے فضا کے تاریک ہو جانے کی وجہ سے ایسے ہو گئے تھے عدوّهم وظلام الجو بفقد نبيهم ( الجزء جیسے کہ بارش والی رات کو بھیڑ بکریاں۔“ ( تاریخ ابن خلدون جزء الثاني من تاريخ ابن خلدون صفحه (۶۵) ثانی صفحہ ۶۵) ابن خلدون نے مزید لکھا ہے ”عرب کے عوام و وقال ايضا۔ارتدت العرب عامة وخاصة خواص مرتد ہو گئے۔اور بنو مکے اور بنو اسد طلیحہ کے ہاتھ پر جمع ہو گئے واجتمع على طليحة عوام طىء و اسد اور بنو غطفان مرتد ہو گئے۔اور بنو ھو ازن متردد ہوئے اور انہوں وارتدت غطفان وتوقفت هوازن فامسكوا نے زکوۃ دینی روک دی۔نیز بنوسکیم کے سردار مرتد ہو گئے۔اور اسی الصدقة وارتد خواص من بني سليم وكذا طرح ہر جگہ پر باقی لوگوں کا بھی یہی حال تھا۔“ (صفحہ ۶۵) ابن اثیر سائر الناس بكل مكان (صفحه ۶۵) وقال نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن الأثيـر فـي تـاريخه لما توفى رسول الله وصال ہوا اور آپ کی وفات کی خبر مکہ اور وہاں کے گورنر عتاب بن صلى الله عليه وسلم و وصل خبره الى مكة اُسید کو پہنچی۔تو عتاب چھپ گیا۔اور ملکہ لرز اُٹھا۔اور قریب تھا کہ وعامله عليها عتاب بن أسيد استخفى عتاب اُس کے باشندے مرتد ہو جاتے۔“ ( الجزء الاول صفحہ ۱۳۴) اور وارتجت مكة وكاد اهلها يرتدون مزید لکھا ہے کہ عرب مرتد ہو گئے ، ہر قبیلہ میں سے عوام یا خواص۔(الجزء الاول صفحه ۱۳۴) وقال ايضا۔اور نفاق ظاہر ہو گیا اور یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنی ارتدت العرب اما عامة أو خاصة من كل گرد نہیں اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کر دیا۔اور مسلمانوں کی اپنے قبيلة وظهر النفاق واشـر أبـت اليهود نبی کی وفات کی وجہ سے، نیز اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت والنصرانية و بـقـى الـمـسـلـمـون كالغنم کے باعث ایسی حالت ہوگئی تھی جیسی بارش والی رات میں بھیٹر في الـلـيـلـة الـمـمـطـرة لفقد نبيهم و قلتهم بکریوں کی ہوتی ہے۔اس پر لوگوں نے ابو بکر سے کہا کہ یہ وكثرة عدوهم فقال الناس لابي بكر ان لوگ صرف اسامہ کے لشکر کو ہی مسلمانوں کا لشکر سمجھتے ہیں۔اور هؤلاء يعنون جيش اسامة جند المسلمين جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں عربوں نے آپ سے بغاوت کر والعرب على ما ترى فقد انتقضت بك دی ہے۔پس مناسب نہیں کہ آپ مسلمانوں کی اس جماعت کو فلا ينبغي ان تفرق جماعة المسلمین اپنے سے الگ کر لیں۔اس پر ( حضرت ) ابو بکر نے فرمایا: عنك فقال ابوبكر والذي نفسي بيده اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!