سرّالخلافة — Page 178
سر الخلافة ۱۷۸ اردو تر جمه ثم اعلم أن أمر النسب پھر یہ بھی جان لے کہ نسب اور قومیت کا معاملہ والأقوام أمر لا يعلم حقيقته إلا ایسا معاملہ ہے جس کی حقیقت کا صرف علام خدا کا علم العلام، والرؤيا التي كتبتها علم ہی احاطہ کر سکتا ہے۔اور وہ رؤیا جسے میں نے في ذكر الزهراء تدلّ على كمال (حضرت) فاطمہ الزھراء کے ذکر میں لکھا ہے وہ تعلقى، والله أعلم بحقيقة اُن کے ساتھ میرے کمال تعلق پر دلالت کرتی الأشياء۔وفی کتاب ”التيسير“ ہے۔اشیاء کی اصل حقیقت کو اللہ ہی سب سے بہتر عن أبي هريرة من أسلم من أهل جانتا ہے۔کتاب التيسير میں ابوھریرہ سے فارس فهو قرشي۔وأنا من روایت ہے کہ اہل فارس میں سے جس نے بھی الفارس كما أنبأنى ربّى، فتفكر اسلام قبول کیا وہ قریشی ہے اور جیسا کہ میرے ربّ وہ في هذا ولا تعجل كالمتعصبین نے مجھے بتایا ہے میں اہل فارس میں سے ہوں۔اس ثم الأصول المحكم والأصل لئے تو اس پر خوب غور وفکر کر اور متعصبوں کی الأعظم أن يُنظر إلى العلامات طرح جلد بازی نہ کر۔پھر ایک محکم اصول اور ويُقدَّمَ البينات على الظنیات سب سے بڑا اصل یہ ہے کہ علامات کی طرف فإن كنت ترجع إلى هذه دیکھا جائے اور امور ہینہ کو امور ظنیہ پر مقدم کیا الأصول فعليك أن تتدبّر جائے۔پس اگر تو اس اصول کی طرف رجوع بالنهج المعقول ليهديك الله کرے تو تیرا فرض ہے کہ معقول طریق پر تذ بر کر إلى حق مبين، وهو أن النصوص تا که الله واضح حق کی طرف تیری رہنمائی القرآنية والحديثية قد اتفقت فرمائے اور وہ اصول یہ ہے کہ نصوص قرآنیہ اور على أن الله ذا القدرة قسم حدیثیہ اس پر متفق ہیں کہ اللہ نے جو صاحب زمان هذه الأمة بحكمة منه قدرت ہے اپنی حکمت اور رحمت سے اس امت ورحمة على ثلاثة أزمنة کے زمانے کو تین زمانوں میں تقسیم فرمایا ہے