سرّالخلافة — Page 106
سر الخلافة اردو تر جمه مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ۔وفى ذلك وَالصَّلِحِین یا اور اس (آیت) میں إشارات إلى الصديق وتفضيله صديق (اکبر) اور آپ کی دوسروں پر فضیلت على الآخرين، فإن النبی صلی کے اشارے ہیں۔کیونکہ نبی ﷺ نے صحابہ الله عليه وسلم ما سمى أحدًا من میں سے آپ کے سوا کسی صحابی کا نام صدیق الصحابة صديقًا إلا إياه، ليُظهر نہیں رکھا تا کہ وہ آپ کے مقام اور عظمت شان مقامه وريّاه، فانظر کالمتدبّرین کو ظاہر کرے۔لہذا غور وفکر کرنے والوں کی وفي الآية إشارة عظيمة إلى طرح غور کر۔اس آیت میں سالکوں کے لئے مراتب الكمال وأهلها لقوم كمال کے مراتب اور ان کی اہلیت رکھنے والوں سالكين۔وإنا إذا تدبرنا هذه كى جانب بہت بڑا اشارہ ہے۔اور جب ہم الآية، وبلغنا الفكر إلى النهاية نے اس آیت پر غور کیا اور سوچ کو انتہا تک پہنچایا فانكشف أن هذه الآية أكبر تو يه منکشف ہوا کہ یہ آیت ( ابوبکر صدیق کے شواهد کمالات الصديق، وفيها كمالات پر سب سے بڑی گواہ ہے اور اس میں سر عميق ينكشف علی کل من ایک گہرا راز ہے جو ہر اس شخص پر منکشف يتمايل على التحقيق۔فإن أبا ہوتا ہے جو تحقیق پر مائل ہوتا ہے۔پس ابو بکر وہ بكر سُمّى صديقًا على لسان ہیں جنہیں رسول مقبول (ع) کی زبان الرسول المقبول، والفرقان (مبارک) سے صدیق کا لقب عطا کیا گیا الحق الصدّيقين بالأنبياء كما اور فرقانِ حمید) نے صدیقوں کو انبیاء کے لا يخفى على ذوى العقول، ساتھ ملایا ہے جیسا کہ اہلِ عقل پر پوشیدہ نہیں۔لے تو یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا ہے(یعنی) نبیوں میں سے،صدیقوں میں سے، شہیدوں میں سے اور صالحین میں سے۔(النساء:۷۰)