سرّالخلافة — Page 95
سر الخلافة 6 ۹۵ اردو تر جمه كما لا يخفى على أهل التحقيق۔جیسا کہ یہ امر اہلِ تحقیق سے مخفی نہیں کیونکہ حضرت فإن خلافة على المرتضى ما كان على مرتضیٰ کی خلافت اس عروج، رفعت اور اعلیٰ مصداق هذا العروج والعُلى کامیابی کی مصداق نہیں ہو سکتی، بلکہ (علی کی والفوز الأجلى، بل لم یزل خلافت کے دشمنوں نے اس کی قوت کو اور اُس تبتزها عداها ما فيه من قوة کی تلواروں کی کاٹ کو سلب کرلیا تھا اور اسے وحدة مداها ، وأسقطوها في گہرے گڑھے میں دے پھینکا اور اخوت کے حق کو هوة وتركوا حق أُخوة، حتى چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس کی حالت ایسے گھر کی أصاروها كبيت أوهن من بيت طرح بنادی جو مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور العنكبوت، وتركوا أهلها ہو اور انہوں نے اہلِ خلافت کو حیران و پریشان کر كالمتحيّر المبهوت ولا شك دیا۔اور اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ حضرت علی أن عليا كان نجعةَ الرُوّاد وقدوة متلاشيان (حق) کی امید گاہ اور سنیوں کا بے مثال الأجواد، وحجة الله علی العباد، نمونہ اور بندگان (خدا) کے لئے حجتہ اللہ تھے۔نیز ۳۰ وخير الناس من أهل الزمان، اپنے زمانے کے لوگوں میں بہترین انسان اور ونور الله لإنارة البلدان ، ولكن ملکوں کو روشن کرنے کے لئے اللہ کے نور تھے۔لیکن أيام خلافته ما كان زمن الأمن آپ کی خلافت کا دور امن و امان کا زمانہ نہ تھا بلکہ والأمان، بل زمان صراصر فتنوں اور ظلم وتعدی کی تند ہواؤں کا زمانہ تھا۔الفتن والعدوان۔وكان الناس عوام الناس آپ کی اور ابن ابی سفیان کی خلافت يختلفون في خلافته و خلافہ کے بارے میں اختلاف کرتے تھے اور ان دونوں ابن أبي سفيان، وكانوا ينتظرون کی طرف حیرت زدہ شخص کی طرح ٹکٹکی لگائے إليهما كحيران، وبعضهم بیٹھے تھے۔اور بعض لوگ ان دونوں کو آسمان کے حسبوهما كفَرُقَدَى سماء فرقد نامی دوستاروں کی مانند تصور کرتے تھے۔