سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 63 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 63

63 مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے سے گھبراتے رہے۔پاکستان کا وہ آئین جو بلا امتیا ز تمام شہریوں کے جان و مال اور عزتوں کی حفاظت کا ضامن ہے، حرکت میں آنے سے قاصر رہا۔اس واقعہ کے بعد علاقہ میں حکومت نے صوبائی یا وفاقی سطح پر چک سکندر کے مظلومین کے لئے نہ کوئی امدادی کیمپ کھولا، نہ زخمیوں کو طبی امداد دی ، نہ ان کی دادرسی کے لئے کسی وزیر نے کوئی بیان دیا۔( بحوالہ www۔thepersecution۔org) اس واقعہ کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے فریقین کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کر کے ایک رپورٹ تشکیل دی۔یہ مختصر مگر جامع رپورٹ شائع شدہ وو ہے۔اس کے آخر میں جو نتائج انند کئے گئے ہیں وہ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں : جائے حادثہ پر موجود شواہد اور اس واقعہ سے متعلق اخذ کیے جانے والے قرائن کی روشنی میں کمیٹی درج ذیل نتائج تک پہنچی ہے: 1 مورخہ 16 جولائی 1989ء کو احمدیوں کے خلاف ہونے والے فسادات نفرت انگیز فرقہ وارانہ جذبات کو ابھارنے کے باعث ہوئے۔ایک شخص جس نے ان فسادات میں اپنا شامل ہونا تسلیم کیا محمد عامر ہے۔اس کی حرکات و سکنات کا نوٹس انتظامیہ کو قبل از وقت لے لینا چاہئے تھا۔2 وہاں سے اکٹھے کئے جانے والے قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی رو چلانے اور ان فسادات کے دوران مؤرخہ 16 / جولائی 1989ء کو احمدیوں پر حملے کرنے میں منظم اینٹی احمد یہ تنظیمیں سرگرم عمل تھیں۔3۔اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ مؤرخہ 16 جولائی 1989ء کو ہونے والے واقعہ کے بعد احمدیوں کو جائے وقوع سے زبردستی نکال لے جانے اور ان کے زخمیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک میں انتظامیہ نے احمدیوں کے خلاف دوسرے فریق کی بے جا طرفداری سے کام لیا۔4 کمیٹی کا یہ خیال ہے کہ اگر احمدیوں کو ان کی حفاظت کے لئے جائے وقوع سے نکال لے جانا مقصود تھا تو ان کا وہاں سے نکالا جانا عارضی نوعیت کا ہونا چاہیے تھا نیز ان کے عارضی قیام کے لئے مناسب انتظامات کئے جانے چاہیے تھے۔یہ انتظامیہ کا فرض تھا کہ اس گاؤں میں احمدیوں کے محفوظ