سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 62 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 62

62 ظالمانہ کاروائی میں جاں بحق ہو گئے۔بہت سی خواتین، بچے اور ماسٹر عبدالرزاق ولد مولوی عبدالمالک جیسے معمر بزرگ شدید زخمی ہوئے۔شقاوت قلبی کی انتہا تھی کہ احمدیوں کے اسی (80) کے قریب مویشی بھی ہلاک کر کے جلتی آگ میں جھونک دیے گئے۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ ایس پی، ڈی آئی جی اور ڈی سی، پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ اس خونی ڈرامہ کے شروع ہی میں گاؤں پہنچ گئے تھے اور یہ ساری قتل وغارت گری ،لوٹ مار اور بھیا تک مظالم ان کی موجودگی میں جاری رہے۔اور پھر ظالموں کو تو کچھ نہ کہا گیا الٹا مظلوم احمدیوں کے سترہ افراد کو ایک غیر احمدی شخص احمد علی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔یہ شخص احمدیوں کے گھروں پر کیے جانے والے حملوں کے دوران حملہ آوروں کی ہی گولی کا نشانہ بن گیا تھا۔باقی احمدیوں کو ہراساں کر کے گاؤں سے نکال دیا گیا۔جب احمدیوں نے اپنے مقتولین کو اپنی ملکیتی زمین میں واقع قبرستان میں دفن کرنا چاہا تو اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ پولیس زبر دستی ان لاشوں کور بوہ چھوڑ گئی۔احمدیوں پر اس قیامت صغریٰ کو بپا کرنے کے بعد کافی عرصہ تک گاؤں کے گرد پولیس کا محاصرہ رہا۔کسی احمدی کو اندر جانے کی اجازت نہ تھی۔جو احمدی گاؤں میں محصور رہے ان کے بارے میں کوئی اطلاع باہر نہیں جانے دی جاتی تھی۔انتظامیہ سے ہر سطح پر درخواست کی گئی کہ احمدیوں کو دوبارہ ان کے گھروں میں جانے کی اجازت دی جائے یا کم از کم اتنی اجازت دی جائے کہ کوئی ذمہ دار احمدی پولیس کے ساتھ جا کر محصور احمدیوں کی خبر لے لیکن کافی عرصہ تک ہر سطح پر ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔دوسری طرف قومی اخبارات میں انتہائی دیدہ دلیری سے مذہبی اجارہ داروں کے بیانات شائع کئے گئے کہ کسی احمدی کوچک سکندر میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بڑے فخر سے یہ خبریں چھاپی گئیں کہ چک سکندر کے محصور قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔گاؤں میں بانی جماعت احمد یہ اور احمدیوں کے خلاف نمایاں طور پر دل آزار بینر آویزاں کیے گئے۔بعد ازاں احمدیوں کے گھروں سے لوٹا گیا سامان نیلام کر دیا گیا اور احمدیوں کو الٹی میٹم دیا گیا کہ وہ اپنے عقائد سے توبہ کرلیں بصورت دیگر انہیں قتل کر دیا جائے گا۔قومی اخبارات وحشت و بربریت کے اس مظاہرہ پر خاموش رہے۔حقوق انسانی کے علمبرداران