سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 734 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 734

734 ہیں، آج ہم ان سب مساجد کو اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں گے اور نماز میں جو دعا کی جائے گی اس میں صرف اس مسجد کے اوپر خدا کے حضور سجدہ تشکر ادا نہ کیا جائے بلکہ اس سارے عرصے میں خدا نے جو عظیم الشان توفیق ہمیں عطا فرمائی ہے اللہ مساجد بنانے کی اس سب مضمون کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔“ حضور نے فرمایا: م اس ضمن میں ایک اور مسجد کا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں یعنی گوئٹے مالا کی مسجد جس کا اسی رنگ میں افتتاح ہم نے چند دن پہلے کیا ہے، تین یا چار دن پہلے۔گوئٹے مالا ایک ایسا ملک ہے جو خالصہ نہیں تو اکثریت شکل میں کیتھولک ہے اور اتنی بھاری تعداد کیتھولک کی ہے کہ دوسرے جو عیسائی فرقے ہیں وہ گنتی کے چند ہیں اور ان کو کوئی اپنے ملک میں عظمت حاصل نہیں۔کیتھولک ہونے کے لحاظ سے میرا یہ تاثر تھا کہ یہ لوگ تعصب دکھا ئیں گے۔اگر ایک مسلمان ملک میں مساجد پر پابندی ہو جائے تو لازمی بات ہے کہ جیسے کہتے ہیں دودھ کا جلا چھا چھ بھی پھونک پھونک کے پیتا ہے۔مجھے یہ ڈر تھا کہ کیتھولک ملک میں تو بہت ہی زیادہ تعصب دکھایا جائے گا۔لیکن میں حیران رہ گیا دیکھ کر کہ ہر منزل پر، ہر قدم پر ان لوگوں نے اتنا تعاون کیا ہے۔حکومت نے بھی، وہاں کے انجینئر ز نے بھی یہاں تک کہ وہاں کے معماروں اور مزدوروں نے بھی۔۔۔۔وہ سارے کیتھولک تھے اور حکومت نے ایسی گہری دلچسپی لی اور ایسا تعاون سے بڑھ کر کہنا چاہئے محبت کا اظہار کیا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنا وسیع حوصلہ دنیا کی کوئی حکومت دکھا سکتی ہے۔مقامی طور پر وہاں ابھی ایک بھی احمدی نہیں لیکن وہاں کے پریزیڈنٹ صاحب نے میری ملاقات کے وقت بتایا کہ میری خواہش تھی کہ میں خود آ کر اس تقریب میں شامل ہوں لیکن ایک انتہائی ضروری Executive کی میٹنگ تھی اس کی وجہ سے میں نہیں آسکا تو میں نے اپنے وائس پریذیڈنٹ کو بھجوایا۔۔۔۔اور دوسرے بعض وزراء اس میں شامل ہوئے اور مقامی لوگ جن کو بھی دعوتیں دی گئیں تھیں بڑے بڑے ہر قسم کے وہ وہاں تشریف لائے اور اس تقریب کو بہت ہی انہوں نے رونق بخشی اور جماعت کی طرف سے جب مسجد کے متعلق اور اس کے مقاصد کے متعلق مختصر اذکر کیا گیا تو بہت ہی گہرا اثر انہوں نے قبول کیا۔بعد میں کچھ عرصہ