سلسلہ احمدیہ — Page 686
686 دنیا تو مخالفت پر زور مارے گی اور تیرے ماننے والوں میں بھی اتنی توفیق کہاں ہے کہ وہ خود اپنی طاقت سے اس پیغام کو دنیا تک پہنچا سکیں۔میں ہوں جو پہنچاؤں گا۔اور آج دنیا میں ہم انٹرنیشنل ٹیلی ویژن کے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو پہنچارہے ہیں۔یہ اللہ ہے جو پہنچا رہا ہے۔اس میں ہماری کوششوں کا اگر دخل ہے تو محض ہم بہا نہ بنائے گئے ہیں ورنہ حقیقت میں یہ سارے بڑے بڑے کاروبار اور بندو بست ہمارے بس کی بات نہیں تھی اور تمہیں ہے۔اگر اللہ کا فضل اُٹھ جائے تو سارے پروگرام بے کار اور بے معنی اور بے حقیقت ہو کر رہ جائیں گے۔ہمیں ان بارہ گھنٹوں کو خوب صورتی سے مفید چیزوں سے بھرنے کی توفیق ہی نہیں ملے گی کیونکہ بہت بڑا کام ہے۔اللہ کا فضل ہی ہے جو ساتھ ساتھ نازل ہوتا رہے، مسلسل ساتھ دے اور اسی کی رحمتوں کے سائے تلے یہ پروگرام آگے بڑھیں۔“ ( مخطبہ جمعہ فرمودہ 7 جنوری 1994۔خطبات طاہر جلد 13 صفحہ 5) 15اپریل 1997ء کو حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے MTA کے توسط سے از راہ شفقت جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ کے اختتامی اجلاس سے براہ راست خطاب فرمایا اور یہ پہلا موقع تھا کہ حضور رحمہ اللہ MTA کے توسط سے آئیوری کوسٹ کے جلسہ سالانہ میں رونق افروز ہوئے۔جلسہ گاہ میں موجود تمام حاضرین ٹیلیویژن سکرین پر نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ حضور خطاب فرمانے والے ہیں۔ٹھیک سوا چار بجے حضور انور ایم ٹی اے کی سکرین پر نعرہ ہائے تکبیر کی گونج میں جلوہ افروز ہوئے۔ساری جلسہ گاہ بھی نعرہ ہائے تکبیر اور امیر المومنین زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔حضور کی جلسہ میں اس طرح تشریف آوری سے ہر احمدی یہی محسوس کر رہا تھا کہ حضور پیچ چی بنفس نفیس آئیوری کوسٹ تشریف لے آتے ہیں اور جلسہ میں شرکت فرما رہے ہیں۔ہر احمدی مسرور و شاداں تھا۔آئیوری کوسٹ کے افراد جماعت کے لئے یہ غیر معمولی موقع تھا۔حضور رحمہ اللہ کا خطاب لگ بھگ چالیس منٹ جاری رہا جس کا فریچ ترجمہ مکرم عبد الغنی جہانگیر صاحب نے کیا۔اپنے خطاب میں حضور رحمہ اللہ نے جماعت آئیوری کوسٹ کے جلسہ میں شامل ہونے والے آئمہ اور معززین کا ذکر کیا۔نیز اپنے دورہ آئیوری کوسٹ کے دوران سابق صدر مملکت (Felix Houphouët-Boigny) سے ملاقات