سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 684 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 684

684 حضرت خلیفہ اسی کو اپے جلوں اور اجماعت کے انعقادکی قبل ازوقت اطلاع دیتی ہیں وبعض دفعہ خلیفہ اسیح اپنے خطبات میں ان سے براہ راست مخاطب ہو کر اپنی نصائح سے نوازتے ہیں۔یوں وہ مقامی جلسے اور اجتماعات بھی خلیفہ وقت کے توسط سے عالمی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔مثال کے طور پر 6 اگست 1993ء کو جماعت احمد یہ ملائشیا اور جماعت احمد یہ روڈ ر گس آئی لینڈ کے جلسہ ہائے سالانہ منعقد ہورہے تھے۔اسی طرح جماعت احمد یہ کینیڈا کی دوسری مرکزی تعلیم القرآن کلاس شروع ہو رہی تھی۔حضور رحمہ اللہ نے لندن میں اس روز اپنے خطبہ جمعہ میں ان تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: دنیا میں ہونے والے یہ مختلف جلسے اور اجتماعات اللہ تعالی کے فضل سے اب جماعت احمدیہ کی عالمی دلچسپیوں کا ایک ایسا مرکزی نقطہ بنتے چلے جارہے ہیں جو خلیفہ وقت کی ذات میں منعکس ہو کر مرکز بن جاتا ہے اور پھر اس کا انتشار ہوتا ہے۔اس لئے اگر چہ یہ پھیلے ہوئے اجتماعات ہیں لیکن ان کو میں نے مرکزی نقطہ قرار دیا کیونکہ اس سے پہلے یہ ممکن نہیں تھا کہ میں دنیا میں ہونے والے اجتماعات میں ہر جگہ براہ راست شمولیت کر سکوں اور وہ براہ راست ساری دنیا کی عالمگیر جماعت کے دل میں اتر رہے ہوں لیکن اب خدا کے فضل سے ممکن ہو گیا ہے اور دن بدن یہ سلسلے پھیلتے چلے جائیں گے اور یہ بھی توحید ہی کا ایک کرشمہ ہے۔درحقیقت یہ توحید کا وہی مضمون ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔وہ جماعت جو خالصہ اللہ ہو، جو خدائے واحد دیگانہ پر کامل ایمان رکھتی ہو، ہر دوسری چیز اس کی نظر میں خدا کی وحدت کے مقابلہ میں بیچ ہو اور بے حقیقت ہو، اس پر خدا کا فضل اس طرح نازل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس جماعت کو بھی ایک وحدت میں تبدیل فرما دیتی ہے۔اور اللہ ہی کا تعلق ہے جو ایک عالمگیر وحدت کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ورنہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے کو اس طرح اپنے قریب پائیں حالانکہ ہمارے درمیان ظاہری فاصلے بھی بے شمار ہیں اور بعض دوسرے فاصلے بھی بے شمار ہیں۔ظاہری فاصلوں سے یہ مراد ہے کہ آج انگلستان میں جو خطبہ دیا جا رہا ہے۔روڈرگس آئی لینڈ جو انتہائی جنوبی علاقہ میں واقع ہے اس کا اور ملائشیا کا آپس میں کتنا فاصلہ ہے اور ہمارے ساتھ پھر کتنا فاصلہ ہے۔