سلسلہ احمدیہ — Page 43
43 گے تو ہم عبادت میں پہلے سے بڑھ جائیں گے یہی جواب ہونا چاہئے۔۔۔ہمارا رد عمل تو وہی ہوگا جو الہی جماعتوں کا ہوا کرتا ہے۔۔۔ایک مذہبی جماعت کا اول رو عمل یہ ہوتا ہے کہ جب خدا سے ڈور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اور خدا کے قریب ہو جاتی ہیں۔“ (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 260) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔احمدیوں کا مسجدوں کے ساتھ رابطہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا۔اپنے پیارے امام کی شب و روز کی تو جہات اور آپ کے پُر معارف خطبات وخطابات اور بابرکت رہنمائی اور دعاؤں کے نتیجہ میں احمدیوں کا نمازوں کے قیام اور عبادات اور دعاؤں میں شغف پہلے سے بھی بڑھ گیا۔ان کی عبادتوں کا معیار ظاہری لحاظ سے بھی بلند ہوا اور باطنی لحاظ سے بھی وہ تعلق باللہ میں زیادہ مستحکم ہوتے چلے گئے۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا : نمازوں سے روکنے کی طرف انہوں نے توجہ کی تو اس قدر ایک طوفان آگیا ہے روحانیت کا کہ آپ تصور نہیں کر سکتے۔چھوٹے چھوٹے بچے خط لکھتے ہیں اور رو رو کر وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے آنسوؤں سے یہ خط لکھ رہے ہیں کہ خدا کی قسم ہمیں ایک نئی روحانیت عطا ہو گئی۔ہم تہجدوں میں اٹھنے لگے۔ہماری عبادتوں کی کیفیت بدل گئی ہے۔اس جماعت کو کون مارسکتا ہے جس کے مقابل پر ہر تد بیر خدا نے الٹادی ہو؟ عبادتوں پر حملہ کیا تو جن بچوں کے متعلق آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے وہ پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھا کرتے تھے آج وہ تہجد میں اٹھ کر روتے ہیں اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں اور نمازوں کا لطف حاصل ہو گیا ہے ان کو۔تو یہ تو بہر حال خدا کی ایک ایسی تقدیر ہے جو نہیں بدل سکتی۔ساری کائنات مل کر زور لگالے اس تقدیر کو کوئی نہیں بدل سکے گی۔جتنی یہ مخالفتوں میں زیادہ بڑھیں گے اتنا ہی زیادہ اللہ تعالی جماعت کو ہر اس سمت میں برکت دے گا جس سمت میں یہ روکنے کی کوشش کریں گے۔“ (خطبات طاہر جلد 3 صفحہ 259) حضور رحمہ اللہ نے 30 اپریل 1984ء کو پاکستان سے لندن پہنچنے پر جو پہلا خطاب افراد جماعت سے فرمایا اس میں اس آرڈیننس کے پس منظر اور معاندین احمدیت کے بدار ا دوں اور پاکستان کے