سلسلہ احمدیہ — Page 639
639 اس تقدیر کو بدل کے دکھاؤ عب میں اس بات کو قابل قبول سمجھوں گا کہ تم سے مزید گفتگو کی جائے کسی بات پر۔اب یہ سلسلے گفتگو کے کٹ چکے ہیں۔ان سب بے حیائیوں پر تم قائم ہو جن سے روکنے کے لئے تمہاری منتیں کیں۔تمہیں سمجھایا کہ بس کرو کافی ہو گئی ہے۔اپنے ساتھ ساری قوم کو تو بر باد نہ کرو۔اب آواز میں اٹھ رہی ہیں جگہ جگہ سے کہ ملک ختم ہو گیا، ملک تباہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔جو قصے چلتے ہیں آئے دن فلاں یہ کھا گیا، فلاں یہ کھا گیا، فلاں کا اتنا سونا پکڑا گیا، فلاں کی یہ گندگی پکڑی گئی اور آئے دن پاکستان کے اخبار جس بے حیائی سے بھرے ہوئے ہیں کہ یہ کردار ہے قوم کا تم سمجھتے ہو کہ دنیا کو پتہ ہی کچھ نہیں ؟ تم آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہو بے شک ،مگر اگر کوئی تم میں سے یہ بہادری کرے کہ وہ کہہ دے کہ ہاں یہ قوم ایسی ہو چکی ہے تو اس کے پیچھے پڑ جاتے ہو، کہتے ہو جھوٹ بولتا ہے یا جھوٹ نہیں بھی بولتا تو بتانے کی کیا ضرورت تھی۔ہم گویا چھپے بیٹھے تھے ہمیں بدنام کر دیا۔کون سی بات ہے جو دنیا کو پتہ نہیں ہے۔سب کچھ پتہ ہے۔اس لئے خوامخواہ کے جھگڑے لگا بیٹھے ہو۔“ آپ نے فرمایا: ملاں ہے جس نے اس قوم کو برباد کیا ہے اور جب تک یہ زہر تمہاری جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے، تب تک تمہاری زندگی کی بقا کا کوئی سامان نہیں ہو سکتا یعنی زندگی باقی رکھنے کا۔اس لئے اس زہر کو پہلے نکالو۔ہر خرابی کا ذمہ دار یہ ملاں ہے اور یہ چڑھا ہوا ہے اس بناء پر کہ احمدیوں کے خلاف جو کچھ یہ کہے تم اسے سینے سے لگائے رکھتے ہو۔اور اتناڈرایا ہے تمہیں کہ اگر احمدیت کے حق میں کوئی سچی بات تم کہو تو یہ تمہاری جان کھا جائے گا اور اسی خوف کی وجہ سے ان کو رفعت مل رہی ہے، عظمت مل رہی ہے جیسی بھی وہ رفعت اور عظمت ہو سکتی ہے۔دراصل ذلت اور نکبت کا دوسرا نام ہے جو ان کی رفعتیں اور ان کی عظمتیں ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔پس ملاں کی جان توڑنی ہے تو اس سے احمدیت کا لقمہ چھین لو۔پھر دیکھو اس کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے۔اس کے سوا اس کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔سارے پاکستان میں ایک گلی کی اصلاح کرنے کے قابل نہیں ہے یہ۔ہر موڑ پر مسجدیں دکھائی دیں گی مگر مسجد کا ساتھی بھی دیانتدار نہیں بنا سکے۔۔۔۔وزیر اعظم صاحب جب یہ اعلان