سلسلہ احمدیہ — Page 608
608 وہاں بھی نظام جماعت مقرر ہے کوئی نہ کوئی ہو میو پیتھک ڈسپنسری موجود ہے جو بلا مبادلہ ان کی خدمت کے لئے تیار ہے۔اب ربوہ میں تو کثرت سے ہیں اور ربوہ سے بھی خط آتے ہیں۔عجیب بات ہے کہ ان کو یہ نہیں پتہ کہ خدا تعالی کے فضل سے وہاں ہو میو پیتھک کلینک با معاوضہ بھی موجود ہیں، بہت معاوضہ لے کر کرتے ہیں لیکن جماعت کی طرف سے مفت علاج کی اتنی سہولتیں ہیں کہ دنیا کے کسی شہر میں یہ سہولتیں نہیں ہوں گی۔ملک کے امیر کا فرض ہے کہ وہ تمام جماعتوں کو مطلع کرے کہ آپ کے قریب ترین کون سی ڈسپنسری ہے جس سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں اور اگر اس شہر میں نہیں ہے تو شہر بتائیں کہ کس جگہ جائیں کیونکہ ان کو لازما پھر وہاں جانا پڑے گا اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر موجود ہو گا جو ان کو دیکھ کر پوری تحقیق کرنے کے بعد پھر ان کے لئے علاج تجویز کر سکتا ہے۔اب مختصر میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ہندوستان میں مجموعی طور پر 170 کے لگ بھگ ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں جن میں قادیان میں تین، پنجاب میں چھے، ہماچل پردیش میں ایک، ہریانہ میں چار، راجستھان میں تین، آندھرا پردیش میں دوہ صوبہ جموں و کشمیر میں دس، گجرات میں ایک، یوپی میں تین، کیرالہ میں چھ، تامل ناڈو میں دو، مدراس میں دو، بنگال میں سولہ، آسام میں چار ، اڑیسہ میں دو۔یہ ساری ڈسپنسریاں وہاں کام کر رہی ہیں اور مفت علاج کر رہی ہیں۔۔۔جمام امراء صوبائی و ضلع یہ ذمہ داریاں اپنے اوپر ڈال لیں کہ ہر احمدی کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ ڈسپنسریاں کہاں ہیں اور کیسے کام کر رہی ہیں۔“ الفضل انٹرنیشنل 17 ستمبر 2001 صفحہ 19) حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ یو کے 2003ء کے موقع پر دوسرے روز بعد دوپہر کے خطاب میں ہومیو پیتھی کے ذریعہ خدمت خلق کے حوالہ سے ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو میو پیتھک طریقہ علاج کو بکثرت فروغ ہو رہا ہے اور کثیر تعداد میں مفت خدمت کرنے والے شفا خانے قائم کیے جارہے ہیں۔55 ممالک سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایسے 632 چھوٹے بڑے شفا خانے قائم ہو چکے ہیں۔اس سال ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ 91 ہزار افراد کا مفت علاج کیا گیا۔