سلسلہ احمدیہ — Page 559
559 عالی بجٹ ایک ارب 6 کروڑ 93 لاکھ روپے ہو چکا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے فرمایا کہ 1982ء میں جب اللہ تعالی نے مجھے منصب خلافت پر قائم فرمایا تو اس وقت جماعت احمدیہ عالمگیر کی کل مالی قربانی پانچ کروڑ پندرہ لاکھ ستانوے ہزار روپے تھی۔پھر ہجرت والے سال میں یعنی 1984ء میں جماعت نے بارہ کروڑ تینتالیس لاکھ باون ہزار روپے کی قربانی پیش کی۔اس پر میں نے ایک دفعہ جماعت کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہم پچاس کروڑ کی حد کو کر اس کر جائیں۔چنانچہ سال 93-1992 میں جماعت نے پہلی دفعہ پچاس کروڑ کی حد کو کر اس کرتے ہوئے ترتین کروڑ چورانوے لاکھ کی قربانی پیش کی۔اور پھر میں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہم اربوں کی حد میں داخل ہو جائیں۔آج میں جماعت کو یہ خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ وہ سال ہے جو ایک سنگ میل لے کر جماعت کے لئے حاضر ہوا ہے۔اور آج خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ جماعت کا عالمی بجٹ ایک ارب چھ کروڑ ترانوے لاکھ روپے ہو چکا ہے۔(ماخوذ از خطاب حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرموده بر موقع جلسہ سالانہ یو کے 1996ء۔دوسرے روز بعد دو پہر کا خطاب) غرضیکہ مالی قربانی کی وہ شاخ جو حضرت اقدس مسیح موعود کے دست مبارک سے لگائی گئی تھی خلافت احمدیہ کے زیر سایہ وہ بھی بہت پھولی اور پھلی اور ایک تناور درخت میں تبدیل ہوگئی جس کی ہر شاخ آگے مثمر ثمرات حسنہ اور پھلوں سے لدی ہوئی ہے۔جماعت احمدیہ کے مالی نظام کا استحکام اور اس کی غیر معمولی کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی آئینہ دار اور حضرت مسیح موعود اور خلافت احمدیہ کی صداقت کا عظیم ثبوت ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الرائع نے اس پہلو سے جماعت احمدیہ میں قائم طوعی مالی نظام کا ذکر کرتے ہوئے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 دسمبر 1992ء میں فرمایا: جماعت احمدیہ کا جو یہ پہلو ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صداقت کا ایک ایسا عظیم الشان ثبوت ہے کہ ساری دنیا زور مارلے، گالیاں دے یا کوششیں کرے اور منصوبے بنائے تو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کی یہ نمایاں اور عظیم الشان اور امتیازی خوبی ان سے چھین نہیں سکتی۔اس پیغام کو سو سال ہو چکے ہیں۔سو سال میں کتنی ہی نسلیں ایک