سلسلہ احمدیہ — Page 445
445 جاہلانہ آرڈر جاری کیا گیا۔یہ حکم نامہ اس بات کا بھی ایک زبر دست ثبوت تھا کہ جماعت احمدیہ کی روز افزوں ترقی اور اس پر خدا تعالیٰ کے فضلوں اور احسانات کی موسلا دھار بارش نے کس طرح معاندین احمدیت کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑ کا رکھی ہے۔ان کا یہ حکم دینا بتا تا ہے کہ ان کے دلوں میں ایک آگ لگی ہوتی ہے اور وہ اس جہنم میں جل رہے ہیں کہ احمدیوں کو کیوں خدا تعالیٰ نئی نئی رفعتیں اور نئی نئی برکتیں عطا کرتا چلا جا رہا ہے۔وہ شخص جو کسی کی خوشی پر عذاب میں مبتلا ہو اس کے لئے اس سے زیادہ اور کیا جہنم سوچی جاسکتی ہے۔ذیل میں اس حکومتی آرڈر کے بعض حصے ہدیہ قارئین ہیں۔ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ نے اپنے اس حکم نامہ میں لکھا کہ : 35 جبکہ میرے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ ضلع جھنگ میں قادیانی 23 مارچ 1989ء کو قادیانیت کی اپنی صد سالہ جوبلی منعقد کر رہے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے چراغاں کرنے، عمارات سجانے، سجاوٹی گیٹ کھڑے کرنے، پمفلٹ تقسیم کرنے، دیواروں پر پوسٹر لگانے، شیرینی بانٹنے، سپیٹل کھانے، بیجز کی نمائش، بینر لگانے اور جھنڈیاں وغیرہ لگانے کا انتظام کیا ہے جو کہ مسلمانوں کے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے۔اسی طرح اس میں لکھا کہ : پنجاب گورنمنٹ کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے بذریعہ ٹیلی پرنٹر پیغام بتاریخ 20 / مارچ 1989ء میں متذکرہ بالا قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر صوبے بھر میں پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔اور جبکہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ PPC 298-C ایکٹ XLV 1860ء کے تحت قادیانی گروہ کے کسی شخص کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے دین کو اسلام کہے یا قرار دے یا اپنے دین کی تبلیغ یا پر چار کرے یا دوسروں کو اپنے دین کی تحریری زبان یا کسی مرئی طریق سے دعوت دے یا کسی بھی انداز سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو مستوجب سزا ٹھہرے گا جبکہ میری رائے اور گورنمنٹ کے مندرجہ بالا فیصلے اور تعزیرات پاکستان کے مندرجات کے مطابق اور زیر دفعہ C-29