سلسلہ احمدیہ — Page 444
444 چلا کرتی تھیں خاص وقت میں ان کی سہولت کھینچ لی۔ہر طرح سے رخ بالآخر جلسے کی طرف ہی تھا اور جلسہ سالانہ بند کر کے انہوں نے اپنی طرف سے جو پلی کے جلسے کی راہ میں وہ دیوار کھڑی کردی جو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتی لیکن ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے جہاں تک اللہ تعالی کی تقدیر ہے یہ تو یقینی ہے کہ اس کے بدلے میں جو دشمن ہم سے کر رہا ہے خدا تعالیٰ بہت بڑی عظمتیں دینے والا ہے۔جس شان کا تصور کر کے انہوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی ان کے ذہن سے یہ بات نکل گئی کہ ہم جس کے غلام ہیں وہ تو لحہ لحہ نئی شان دکھانے والا آتا ہے اور جس خدا نے اس کو پیدا کیا وہ تو کل یوم ھوٹی شان کا مقام رکھتا ہے۔اس سے ہر شان پھوٹتی ہے۔تو جو محمد مصطفی ﷺ کا غلام ہو اور اللہ کا غلام ہو اس کی شان کیسے کوئی نوچ کے چھین سکتا ہے، نا ممکن کام ہے یہ ان کے لئے۔اگر خدانخواستہ ربوہ میں حالات ایسے نہ ہوئے کہ وہاں جشن اس طرح منایا جائے جیسا کہ جماعت نے منانا تھا تو دنیا کے کونے کونے میں اس شان اور اس قوت کے ساتھ یہ جشن منایا جائے گا کہ دشمنوں کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے اس کے ولولے سے اور ان کے دبدبے سے۔جس شوکت سے نعرہ تکبیر بلند ہوں گے دنیا میں وہ ان کے دلوں کو دہلا دینے والی شوکت ہو گی۔اس لئے کہاں ان کی طاقت ، کہاں ان کی مجال کہ محمد مصطفی کے غلاموں کی شان کھینچ سکیں، شان نورچ سکیں۔یہ نہیں نوچ سکتے۔یہ ملک جہاں میں اس وقت مخاطب جو رہا ہوں آپ سے، یہ ملک بھی نئی اور دو بالا شان کے ساتھ اسلام کا حسن دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہو گا۔اور آپ ہوں گے جو اس حسن کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں گے۔افریقہ بھی ایک نئی شان کے ساتھ نئے ولولے کے ساتھ پیش کر رہا ہو گا۔نئے روپ کے ساتھ یہ شان ایشیا کے سارے ممالک میں دکھائی جائے گی، نئے روپ کے ساتھ یہ شان دنیا کے ہر بر اعظم میں دکھائی جائے گی۔“ تخطبه جمعه فرموده 30 جنوری 1987ء بمقام مسجد فضل المدن (یوکے)۔خطبات طاہر جلد 6 صفحہ 70-71) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پاکستان بھر میں اور خصوصیت سے پنجاب میں احمدیوں پر صد سالہ جشن تشکر کی خوشیاں منانے پر پابندی لگا دی گئی اور اس سلسلہ میں حکومت کی طرف سے ایک نہایت مضحکہ خیز اور