سلسلہ احمدیہ — Page 419
419 کہا تھا کہ فلاں جگہ پہنچو تو مباہلہ ہوگا اور فلاں جگہ پہنچو تو نہیں ہوگا۔اُن مباہلوں کو میں مباہلوں میں شمار نہیں کرتا لیکن اس کے علاوہ جن لوگوں نے مثلاً انگلستان کے بعض علماء نے مشارکت زمانی کہہ کر یعنی یہ کہہ کر کہ اگر چہ ایک جگہ ہم اکٹھے نہیں ہو سکتے لیکن زمانے میں مشترک ہو سکتے ہیں اس لئے فلاں تاریخ کو آپ بھی دعائیں کریں، ہم بھی دعائیں کرتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ مباہلہ ہو جائے گا۔تو اس کو میں مباہلہ تسلیم کرتا ہوں ان معنوں میں کہ دونوں طرف سے برابر کا مباہلہ ہے اور دونوں کی طرف سے خوب وضاحت کے بعد اس ذمہ داری کو قبول کر لیا گیا ہے۔اسی طرح ہندوستان میں ابھی چند دن پہلے ایک مباہلہ میری اجازت سے ہوا اور وہ بھی چونکہ اس سال کے اندر ہوا اس لئے اسے بھی بطور مباہلہ کے ہم تسلیم کر چکے ہیں۔۔۔۔اس دوران بعض انفرادی واقعات بھی ہوئے ہیں جن کا جماعت کی طرف سے اجتماعی مباہلہ سے تعلق نہیں تھا لیکن اس مباہلہ کے سائے میں اس سے جرآت اور حوصلہ پا کر بعض احمدیوں نے انفرادی طور پر بعض دوسرے غیر احمدی مخالفین کو انفرادی طور پر چیلنج دیا اور وہ انہوں نے قبول کیا۔اس کی تاریخ بھی ہم با قاعدہ منضبط کر رہے ہیں، محفوظ کر رہے ہیں اور بہت سے ایسے نشانات ظاہر ہو چکے ہیں جو حیرت انگیز ہیں، کچھ اور انشاء اللہ ہوں گے پھر اس بارے میں بھی میں علیحدہ بعد ازاں کسی وقت جماعت کو مطلع کروں گا۔آج جو گفتگو کر رہا ہوں اس کا اس سال کے عمومی حالات سے تعلق ہے اور مباہلہ کی دعا سے تعلق ہے۔مباہلہ کی دعا میں میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس عرصے میں کوئی احمدی نہیں مرے گا اور سارے دشمنان احمدیت مر جائیں گے۔ایسی لغو بات میں کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ خدا کی تقدیر میں دخل دینے والی بات ہے اور مباہلہ کے مضمون کو حد سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالی کسی دشمن کی موت کی معین خبر دے، مباہلہ کو معین کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔اس لئے جیسے کہ میں آپ کے سامنے اب عبارت پڑھ کے سناؤں گا آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جو دعا میں نے تجویز کی تھی اور جس کو ملحوظ رکھ کر دشمنوں نے مباہلہ کو قبول کیا ہے وہ دعا یہ تھی: ”اے قادر و توانا عالم الغيب والشهادة خدا! ہم تیری جبروت اور تیری عظمت، تیرے وقار اور تیرے جلال کی قسم کھا کر اور تیری غیرت کو ابھارتے ہوئے تجھ سے یہ