سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 20 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 20

20 کے نتیجہ میں ہر پولیس افسر جس کو چاہے، جس وقت چاہے، احمدی کو پکڑلے اور تین سال کے لئے اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دے۔کسی شریف انسان کی حفاظت کا کوئی امکان بھی باقی نہیں رہا وہاں۔۔۔وہاں جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں کسی احمدی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ زبان سے یا ایسے ذریعہ سے جس میں زبان یا تحریر نہ بھی استعمال ہو لیکن اس کی bearing، اس کا چال چلن اس کو مسلمان ظاہر کرتا ہو؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو تین سال کے لئے پاکستان کے قانون کے مطابق جیل میں بھجوانے کے لائق ہوگا۔اور صحابہ کرام حضرت مسیح موعود کے متعلق وہ کوئی دعائیہ کلمات ایسے استعمال نہیں کر سکتا جو قرآن نے سکھاتے ہیں اور کوئی قرآنی اصطلاح استعمال نہیں کر سکتا باوجود یہ ایمان رکھنے کے کہ قرآن میرے لئے واجب التعمیل ہے اور اس کا حکم میرے لئے ماننا ضروری ہے۔اذان نہیں دے سکتا۔اور حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون اس لئے بنایا جا رہا ہے تا کہ قادیانیوں کو اسلام دشمن سرگرمیوں سے روکا جائے۔اور اسلام دشمن سرگرمیوں کی تعریف یہ ہے کہ اذان نہیں دیں گے۔وہ اسلامی اصطلاحیں استعمال نہیں کریں گے۔عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہیں گے۔یہ اسلام دشمن سرگرمیاں ہیں ؟“ (ماخوذ از خطاب فرموده 30 اپریل 1984ء بمقام لندن ) اس ظالمانہ آرڈینس کے تحت پاکستان میں احمدیوں کی روزمرہ کی زندگی کو قانون کی نظر میں ایک جرم بنا دیا گیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس نہایت ظالمانہ آرڈینینس نے صرف پاکستان کے احمدیوں کی روزمرہ کی زندگی کو ہی جرم نہیں بنایا اور انہیں کو شدید قلبی و ذہنی اور روحانی اذیت میں مبتلا نہیں کیا بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے احمدیوں کو بھی شدید اذیت میں ڈال دیا۔کیونکہ جماعت احمد یہ عالمگیر خلافت کے ذریعہ سلک وحدت میں پروئی ہوئی ایک جماعت ہے اور ایک امام کے تابع ایک وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان کے احمدیوں کو پہنچنے والی ہر تکلیف، ہر دکھ ، ہر اسیری، ہر شہادت دنیا بھر کے احمدیوں کے دلوں پر چر کے لگانے والی تھی اور وہ اپنی آزادی کو جرم سمجھنے لگے تھے اور تڑپتے تھے کہ کاش اپنے ان بھائیوں کی جگہ وہ یہ قربانیاں پیش کر رہے ہوتے۔وہ اپنے بھائیوں کے دکھ درد سے الگ زندگی بسر نہیں کر سکتے تھے۔اس پہلو سے اس ظالمانہ آرڈینینس کا دائرہ اثر صرف پاکستان ہی