سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 405 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 405

405 22، 24 اور 25 رسمبر 1988ء) 23 دسمبر 1988ء کو حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے مجد فضل لندن میں اپنے خطبہ جمعہ میں اس بارہ میں تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: ایک تازہ صورتحال مباہلہ کی یہ پیدا ہوتی ہے کہ کم و بیش چھ ماہ کے بعد یہاں انگلستان کے ایک مولوی نے جماعت احمدیہ کو یا مجھے خصوصیت کے ساتھ یہ چیلنج دیا کہ آپ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ اجتماع ضروری نہیں۔یعنی مشارکت مکانی ضروری نہیں۔مکان یعنی جگہ کے اعتبار سے ایک جگہ اکٹھا ہونا ضروری نہیں۔تو ہم آپ کے لئے ایک اور صورت پیش کرتے ہیں۔گویا کہ نعوذ باللہ وہ ہماری پیروی کر رہے ہیں اور ہم بھاگ رہے ہیں۔حالانکہ ہم ان کے پیچھے جارہے ہیں۔ہم تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا کے حضور کہہ چکے ہیں جو کہنا ہے، لعنت ڈال چکے ہیں جھوٹوں پر تمہیں جرات ہے !تم بھی ڈال کے دکھا دو۔صرف یہ بات تھی۔لیکن دنیا کو دھوکہ دینے کی خاطر اور شاید اس خیال سے کہ ہم اس بات کو نہیں مانیں گے انہوں نے یہ ایک مضمون شائع کر کے سب جگہ بھیجوایا ، صرف ہمیں نہیں بھیجوایا۔اس سے یہ شبہ اور قوی ہوتا ہے کہ ان کی نیت یہ تھی کہ ان کو پتہ ہی نہ لگے۔غیر احمدیوں میں مضمون تقسیم ہو گیا۔ہمیں نہیں بھجوایا گیا۔اور مضمون یہ تھا کہ ہم 23 دسمبر کو جمعہ ہے اس میں آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ مشارکت مکانی نہیں تو مشارکت زمانی کرلیں۔یہ مولویانہ محاورہ ہے۔مراد یہ ہے کہ آپ ایک جگہ اکٹھے ہونا نہیں چاہتے تو ایک وقت میں اکٹھے ہو جائیں اور کوئی وقت مقرر کر لیں۔۔۔۔میں نے کہا فوراً ان سے رابطہ کرو۔ان کو کہو ہمیں منظور ہے۔اگر چہ ہمارا موقف ہی ہے کہ اس قسم کی انہوں نے جو مشارکتیں بنائی ہوتی ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اس اتفاق کی ضرورت ہے ذہنی طور پر کہ ہم خدا کے حضور اپنا سب کچھ ، اپنے مال و دولت، اپنی عزتیں، اپنے بچے ، اپنے مرد، اپنی عورتیں لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں کہ کسی خاص جگہ پر ان سب کو سمیٹ کر گلوں کی طرح حاضر ہورہے ہیں بلکہ خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا ! اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر لعنت کر اور اگر ہمارے دشمن جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ ظلم سے باز نہیں آر ہے تو ان پر لعنت کر۔یہ مضمون ہے جس کی رو سے ہم تو مباہلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔لیکن