سلسلہ احمدیہ — Page 389
389 امروز 13 / جولائی 1988ء ، جنگ 14 جولائی 1988ء ، روزنامه ملت لندن 14 ر جولائی 1988ء وغيره) اسلم قریشی کی روپوشی اور واپسی اور اس کے بیانات سے یہ بات خوب واضح ہو گئی کہ جماعت احمدیہ پر اس کے اغوا اور قتل کا الزام سراسر جھوٹ اور افتراء تھا۔اسلم قریشی کے اس طرح اچانک سامنے آنے سے معاند احمد بیت علماء کا نہ صرف جھوٹا ہونا ثابت ہوا بلکہ ان کی ذلت ورسوائی بھی ہوئی اور یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جبکہ ایک مہینہ پہلے باقاعدہ ان کو مباہلہ کا چیلنج دیا گیا تھا اور اس میں اس الزام کا ذکر کرتے ہوئے جھوٹوں پر خدا کی لعنت ڈالی گئی تھی۔بلاشبہ یہ ایک حیرت انگیز نشان تھا جو مباہلہ کے نتیجہ میں ظاہر ہوا اور جس نے جھوٹوں کو ذلیل ورسوا کر دیا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنی ایک نظم میں اس نشان کا ذکر فرمایا جو جلسہ سالانہ یو کے 1988ء پر پڑھی گئی۔آپ فرماتے ہیں:۔دیکھو اِک شاطر دشمن نے کیسا ظالم کام کیا پھینکا مکر کا جال اور طائر حق زیر الزام کیا نا حق ہم مجبوروں کو اک تہمت دی جلادی کی قتل کے آپ ارادے باندھے ہم کو عبث بدنام کیا دیکھو پھر تقدیر خدا نے، کیسا اُسے ناکام کیا مکر کی ہر بازی الٹا دی، دجل کو طشت از بام کیا الٹی پڑگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دغا نے کام کیا دیکھا اِس بیماری دل نے، آخر کام تمام کیا زنده باد غلام احمد، پڑ گیا جس کا دشمن جھوٹا جَاءَ الْحَقُ وَزَهَقَ الْبَاطِلِ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا جب سے خدا نے ان عاجز کندھوں پر بار امانت ڈالا راہ میں دیکھو کتنے کٹھن اور کتنے مہیب مراحل آئے