سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 388 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 388

388 حل نہیں کرتے۔صدر پاکستان نے پنجاب پولیس کو تمام وسائل بروئے کارلانے کی ہدایت کی۔حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اسلم قریشی کی روپوشی اور مباہلہ کے چیلنج کے بعد اس کی بازیابی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: م اللہ تعالی نے جب مجھے یہ توفیق عطا فرمائی کہ میں تمام معاندین احمدیت کو مباہلہ کا چیلنج دوں تو اس میں میں نے یہ بات بطور خاص لکھی ، خطبے میں بھی بیان کی اور تحریر میں یہ بات شامل کی کہ تیم بحیثیت سربراہ جماعت احمد یہ مجھ پر ایک شخص اسلم قریشی کے قتل کا الزام لگا رہے ہو۔۔۔اس لئے تمہیں مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے میں اس بات کو بھی شامل کرتا ہوں تم بھی خدا کی قسم کھا کر کہو کہ واقعہ اس شخص کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ہے اور جماعت احمدیہ کے سربراہ نے ایسا کیا ہے اور میں بھی اعلان کرتا ہوں کہ الف سے 'ی' تک یہ سارا دروغ ہی دروغ ، جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔پس تم بھی خدا کی لعنت ڈالو جھوٹے پر اور میں بھی خدا کی لعنت ڈالتا ہوں جھوٹے پر۔یہ اس تاریخ کا اعلان ہے اور ایک مہینے کے اندر اندر بلکہ بعینہ ایک مہینے پر عین اس تاریخ کو، جولائی ہی کی اس تاریخ کو اسلم قریشی صاحب ایران سے کوئٹہ پہنچ گئے۔گو ان کے پہنچنے کی خبریں کچھ دن بعد شائع ہوئیں۔لیکن یہ بات مسلمہ اور مصدقہ ہے کہ وہ مین دس تاریخ کو پاکستان میں داخل ہوئے۔۔۔13 / جولائی 1988 ء کو ایک پریس کانفرنس بلائی گئی جس میں آئی جی پنجاب پولیس نے یہ انکشاف کیا اور اس پر مولانا اسلم صاحب کے ساتھ پریس والوں نے کچھ سوال بھی کئے جن کے جواب بھی اخبار میں شائع ہوئے۔“ اس پریس کانفرنس میں اسلم قریشی صاحب نے کہا کہ میں نے نامساعد گھر یلو اقتصادی حالات اور نا موافق دینی ماحول سے تنگ آکر خود ہی رخت سفر باندھا اور یہاں سے پہلے گوادر اور پھر ایران چلا گیا اور بعد میں ایرانی فوج میں بھرتی ہو گیا۔۔۔۔اس نے یہ بھی کہا کہ میں خود اس لئے گم نہیں ہوا کہ قادیانی اقلیت کو پریشان کروں۔اس نے یہ بھی اقرار کیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ میں اپنی مرضی سے بعض وجوہ کی بنا پر ایران گیا تھا۔(دیکھیے اخبارات نوائے وقت لاہور 13 / جولائی 1988ء، مشرق لاہور 13 جولائی 1988ء ، روزنامه جنگ لاہور 13 جولائی 1988ء ،