سلسلہ احمدیہ — Page 17
17 سے ہٹانے اور اسلم قریشی نامی ایک نام نہاد مولوی کے مبینہ اغوا اور قتل کے الزام کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسح الرابع رحمہ اللہ کو شامل تفتیش کرنے کے علی الاعلان مطالبات کیے گئے۔(اسلم قریشی کے مبینہ طور پر اغواء کے مفتر یانہ الزام کی حقیقت سے متعلق مختصر ذ کر اسی کتاب میں آگے آئے گا۔) اس ضمن میں پاکستان کے بڑے بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور،سیالکوٹ ،راولپنڈی نیز چنیوٹ وغیرہ میں تقسیم نبوت کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا اور ان مطالبات کو دہرایا گیا۔واضح طور پر حکومت کی پشت پناہی میں مخالفت کی ایک لہر چلائی گئی، احمدیوں کی دکانیں جلائی گئیں، مساجد کے تقدس کو پامال کر کے انہیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا گیا ، شہادتیں ہوئیں، لٹریچر ضبط کیا گیا۔مولویوں کی سازشوں کو بھانپتے ہوئے جماعت احمدیہ نے اپنے پر لگائے جانے والے الزامات و اعتراضات کا شافی جواب دیتے ہوئے ایک پمفلٹ اک حرف ناصحانہ شائع کروایا جسے اپریل 1984ء کے پہلے عشرہ میں احمدی احباب کے ذریعے ملک بھر میں تقسیم کروایا گیا۔پمفلٹ میں مذکور حقائق سے لا جواب ہو کر رد عمل میں معاندین احمدیت کی طرف سے اخباری بیانات دیے گئے، اسے خلاف آئین قرار دیا گیا اور اس کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا گیا یہاں تک کہ حکومتی سطح پر DC جھنگ کے حکم کے ماتحت اسے ضبط کر لیا گیا، اس کی تشہیر کی ممانعت کر دی گئی اور اس کو تقسیم کرنے والے احباب کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔متعد واحمد یوں کو اس جرم میں قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا مگر کسی ایک مخالف نے بھی اک حرف ناصحانہ میں بیان کئے گئے امور کا جواب دینے کی کوشش نہ کی۔صدارتی آرڈیننس 20 اپریل 84ء میں بلکہ اس سے پہلے ہی مختلف ذرائع سے یہ بات ظاہر ہو چکی تھی کہ حکومت احمدیوں کے متعلق ایک آرڈیننس جاری کرنے والی ہے جس سے جماعت کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی ہونے والی ہیں۔چنانچہ پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے مورخہ 26 اپریل 1984 ء کو صدارتی آرڈیننس نمبر 20 ( آرڈیننس XX) کا اجراء اور نفاذ کیا۔اس کا اعلان رات ور بجے کی خبروں میں کیا گیا۔اس آرڈینینس کے مندرجات پہلے سے معلوم اطلاعات سے بہت حد تک