سلسلہ احمدیہ — Page 379
379 مطالعہ کے بعد ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ آپ اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں بلکہ آپ کا دل تقویٰ سے خالی ہے۔اور آپ کی حیثیت ایک مجمع باز کی سی ہے جو سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے چالاکیوں سے کام لے رہا ہے۔سب سے پہلے تو آپ کا یہ ظاہر کرنا کہ گویا امام جماعت احمدیہ نے چیلنج قبول کرنا ہے صریحا عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کے مترادف ہے۔کیونکہ امام جماعت احمد یہ تو نہ صرف چیلنج دے چکے ہیں بلکہ کھلم کھلا خطبات میں بھی اور تحریر کے ذریعہ بھی متعدد بار آپ لوگوں کے الزامات کے جواب میں لعنتہ اللہ علی الکاذبین کہہ چکے ہیں اور مباہلہ کے چیلنج کا ایک فریق بن چکے ہیں جس کے بعد تو آپ کی طرف سے ہی قبولیت کا سوال باقی تھا، نہ کہ دوبارہ ان کی طرف ہے۔آپ کو بھی چاہئے تھا کہ جس طرح جماعت احمدیہ نے چیلنج شائع کروایا ہے۔اخبارات میں اکیلے یا میل کر اپنے دستخطوں کے ساتھ امام جماعت احمدیہ کے چیلنج کے الفاظ کو شائع کراتے اور تحذی کے ساتھ اعلان کراتے کہ مرزا طاہر احمد ان سب باتوں میں جھوٹا ہے اور جس شخص پر یہ بطور مسیح موعود اور امام مہدی ایمان لایا ہے وہ بھی یقینا جھوٹا ہے۔پس جس طرح اس نے لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہہ کر جھوٹے پر لعنت ڈالی ہے ہم بھی قرآن کریم کے بیان کردہ الفاظ میں لعنتہ اللہ علی الکاذبین کہہ کر پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ مرزا طاہر احمد کے دیے ہوئے مباہلہ میں جن الزامات کو وہ علماء کی طرف سے بہتان قرار دے رہے ہیں وہ سارے الزامات بچے ہیں اور اگر ہم جھوٹ بول رہے ہیں تو اللہ تعالی کی ہم پر لعنت پڑے۔اگر آپ میں ذرا سا بھی تقویٰ ہوتا تو یہ سیدھا سادا طریق اختیار کرتے۔دوسرا پہلو اس مطالبہ سے تعلق رکھتا ہے جو آپ کی طرف سے پیش ہو رہا ہے کہ فلاں میدان میں اکٹھے ہوں اور اگر لاہور فلاں تاریخ کو نہ پہنچیں تو ہم تمہیں جھوٹا سمجھیں گے۔یا ہمیں وقت دو کہ ہم تمہاری مقرر کردہ جگہ پر پہنچ کر مباہلہ کریں۔ہمارے نزدیک یہ سب نفس کی بہانہ سازیاں ہیں اور مباہلہ سے فرار کی راہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات میں ہر جگہ ہے اور اس کے قبضہ قدرت سے کوئی جگہ باہر نہیں اور کوئی مقام اس کے تسلط اور جبروت سے خالی نہیں۔وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَ الْأَرْضَ اس کی کرسی زمین و آسمان پر محیط ہے، نہ کسی دنیاوی بادشاہ