سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 378 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 378

378 عمارت سے یا پہاڑی سے کسی بلندی سے آپ بھی چھلانگ لگا ئیں میں بھی چھلانگ لگا تا ہوں جو بیچ جائے وہ سچا۔جو نہ بچے گا وہ جھوٹا۔حالانکہ یہ وہی چیلنج ہے جو شیطان نے مسیح کو دیا تھا اور مسیح نے اسی سے اُس کو پہچانا تھا۔لاہور سے طاہر القادری صاحب نے اعلان کیا کہ فلاں تاریخ کو ہم منٹو پارک پہنچ جائیں گے۔اُس تاریخ کو مرزا طاہر احمد کا اپنے ساتھیوں سمیت رات کے بارہ بجے وہاں موجود ہونا ضروری ہے اور اگروہ نہ پہنچے تو پھر ہم ایک مہینہ انتظار کریں گے۔ایک مہینے کے بعد پھر ہم حکومت پاکستان سے کہیں گے کہ ان کے ہارنے کا اور ہمارے جیتنے کا اعلان کر دیں۔گویا ان کی عدالت ہی دنیا کی عدالت ہے، ان کا خدا گویا حکومت پاکستان ہے اور اس نے فیصلہ کرنا ہے۔کبھی کسی مباہلے کا فیصلہ اس طرح ہوا ہے کہ فلاں حکومت نے اعلان کر دیا کہ فلاں بار گیا فلاں جیت گیا؟ وہ سمجھتے ہیں چالاکی سے، ہوشیاری سے، چرب زبانی سے اگر ہم دنیا پر اور اپنے مریدوں پر یہ اثر ڈال دیں کہ ہم جیت گئے اور دشمن ہار گیا تو یہی مباہلہ کا انجام ہے اور یہی بہت کافی ہے۔حالانکہ یہ کافی نہیں ہے۔اب تک خدا تعالیٰ نے مباہلہ کے بعد جو نشان ظاہر فرماتے ہیں اس سے ایک بات تو ثابت ہوئی کہ ان کا جھوٹا ہو نادن بدن کھلتا چلا جا رہا ہے۔ماخوذ از خطبہ جمعہ فرموده 5 را گست 1988ء - خطبات طاہر جلد 7 صفحہ 545531) مباہلہ کا چیلنج اور پروفیسر طاہر القادری حضور رحمہ اللہ کی طرف سے مباہلہ کے چیلنج کے جواب میں جناب طاہر القادری صاحب کے اس قسم کے بیانات پر جماعت احمدیہ کے پریس سیکرٹری رشید احمد چوہدری صاحب کی طرف سے ان کے نام ایک خط لکھا گیا۔یہ خط روزنامہ آغاز کراچی 24 اکتوبر 1988ء میں شائع ہوا۔یہ خط ہفت روزہ بدر قادیان 17 نومبر 1988ء میں بھی شائع ہوا۔اور ذیل میں ہدیہ قارئین ہے۔) جناب طاہر القادری صاحب! آپ کی طرف سے امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے مباہلہ کے چیلنج کے جواب میں جو اشتہاری قسم کے خطوط اور بیانات اخباروں میں شائع ہو رہے ہیں ان کے