سلسلہ احمدیہ — Page 355
355 ہوئے۔ذیل میں نمونیہ چند خطوط کے اقتباسات پیش ہیں۔قرآن کریم کے بارہ میں چین سے ایک مسلمان جناب صالح وانگ ( چینی زبان کے ایک ریٹائرڈ استاد ) لکھتے ہیں : پیارے قابل احترام دوست چوچنگ شی چینی اخبار سے یہ علم ہوا تھا کہ ایک سمندر پار چینی کی تئیس سالہ محنت سے چار برس میں ترجمہ قرآن پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے نیز یہ بھی علم ہوا کہ ترجمہ بہت عام نہم ، رواں اور سنجیدہ یہ ہے اور ایک اعلی ترجمہ ہے۔نیز علمی لحاظ سے اس پانیہ کی علمی کتاب بہت کم پائی جاتی ہے۔چنانچہ مجھے شدید خواہش تھی کہ میں اسے پڑھ سکوں لیکن یہ سمندر پار شائع ہوا تھا، اپنے ملک میں دستیاب نہیں تھا اور نہ ہی خریدا جا سکتا تھا۔خدا کا شکر ہے کہ میں نے کچھ ہی عرصہ قبل Suzhou کی ایک مسجد میں ایک بزرگ Ba Shang Xiang کے پاس یہ ترجمہ پایا اور اسی وقت ان سے عاریہ لے کر مطالعہ شروع کیا اور اس پر غور وفکر کیا۔میرے پاس امام و انگ کا ترجمہ و تفسیر بھی ہے اور پروفیسر ما جنگ کا ترجمہ قرآن بھی۔شمس الدین کا ترجمہ و تفسیر بھی اور پروفیسر سونگ لن کا منظوم ترجمہ بھی۔یہ سب تراجم خوبیوں کے حامل ہیں۔لیکن آپ کے ترجمہ کی منفرد اور زائد خصوصیت ہر سورت کا تعارف اور فٹ نوٹس کی موجودگی ہے۔تعارف میں آپ نے سورۃ کی وجہ تسمیہ، جائے نزول، وقت نزول، سیاق وسباق کے حوالہ سے تعارف اور بیان ہونے والے مضمون کا خلاصہ بیان کیا ہے۔اس طرح فٹ نوٹس میں مواد وافر، سیر حاصل اور عمیق ہے۔نیز عربی الفاظ کا ترجمہ اور تشریح بھی ہے اور اسی طرح بعض فقرات کی تشریح بھی۔نیز آیات کی وجہ نزول اور تاریخی شخصیات کا تعارف بھی شامل ہے۔اسی طرح عیسائیت اور یہودیت کو سامنے رکھ کر موازنہ مذاہب بھی کیا گیا ہے۔چنانچہ تفسیر ٹھوس، جامع اور عملی زندگی سے گہرا ربط رکھتی ہے۔مثلاً سورہ لہب کی تشریح میں یورپ کے دو گروہوں کا ذکر قاری کے لئے ایک گہرا انکشاف ہے اور بہت حوصلہ افزا بھی۔آپ کے