سلسلہ احمدیہ — Page 11
11 زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں آسٹریلیا کے علاوہ مرکز سے دو اور انڈونیشیا اور نجی سے ایک ایک نمائندہ اور حضرت مولوی محمد حسین صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی شامل ہوئے۔جماعت احمدیہ سری لنکا کی پہلی مجلس شوری 19 اکتوبر 1983ء کو حضور رحمہ اللہ کے زیر صدارت کولمبو میں منعقد ہوئی جس میں جنوبی ہندوستان سے آئے ہوئے جماعتی نمائندگان نے بھی شرکت کی۔الغرض ملکی مجالس شوری کے انعقاد کے جس سلسلہ کا آغاز 1982ء میں ہوا تھا آج خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ نظام خلافت حصہ اسلامیہ احمدیہ کے زیر ہدایت و نگرانی دنیا کے بہت سے ممالک میں مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے اور مزید وسعت پذیر ہے۔پہلی مجلس شوری ممالک بیرون پاکستان کا انعقاد حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے کچھ ہی عرصہ کے بعد ارشاد فرمایا تھا کہ آنے والے جلسہ سالانہ کے موقع پر مجلس شوری ممالک بیرون منعقد کی جائے گی۔اس سلسلہ میں تمام نیشنل امراء کرام کو نومبر 1982ء میں ضروری ہدایات بھجوائی گئیں اور 30 دسمبر 1982ء کو سرائے فضل عمر ( ربوہ) میں شوری ممالک بیرون حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔اس موقع پر حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: یورپ کے سفر میں نہ صرف میں نے بلکہ تمام احباب جماعت نے یہ محسوس کیا کہ مجلس شوری کی برکت سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے افراد میں غیر معمولی جذبہ خدمت پیدا ہوا۔اور بہت سے ایسے اعتراضات جول اعلی کے نتیجہ میں پیدا ہو کر ایمان کو گھن کی طرح ضائع کر رہے تھے وہ از خود رفع ہو گئے۔رپورٹ مجلس شوری ممالک بیرون منعقدہ مؤرخہ 30 دسمبر 1982ء ( غیر مطبوعہ) صفحہ 1) فرمایا: "یہ نظام ہے جس کا ساری دنیا سے تعارف ہونا ضروری تھا۔ورنہ بہت سے ممالک میں بعض ایسے مسائل پیش آرہے تھے اور بعض جگہ وہ بڑھ رہے تھے۔زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر رہے تھے۔جو نظام شوری اور نظام اسلام کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں اگر اسی طرح بڑھتے رہتے تو بہت خطرناک نتائج پر منتج ہو سکتے تھے۔چنانچہ بعض Delegations نے جو یہاں تشریف لائے۔انفرادی