سلسلہ احمدیہ — Page 268
268 اور کیا دیں اور کیا دیں؟ اپنی اولادیں بھی پیش کرتے ہیں اور بعض دفعہ ابھی اولاد پیدا بھی نہیں ہوتی تو پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ابرار کی یہ سنت ہے انبیاء کے علاوہ۔جیسے حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ نے یہ التجا کی خدا سے رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِى محررًا فَتَقَبَّلُ مِنِى إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (آل عمران : 36) کہ میرے۔رب جو کچھ بھی میرے پیٹ میں ہے میں تیرے لئے پیش کررہی ہوں۔نہیں پتہ کیا چیز ہے؟ لڑکی ہے یا لڑکا ہے۔اچھا ہے یا برا ہے۔مگر جو کچھ ہے وہ سب کچھ تمہیں دے رہی ہوں تو فتقبل مٹی مجھ سے قبول فرما۔اِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔تو بہت ہی سنے والا اور جاننے والا ہے۔۔۔۔یہ دعا حضرت مریم کی والدہ کی جو آل عمران سے تھیں خدا تعالیٰ کو ایسی پسند آئی جسے قرآن کریم میں آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا اور پھر حضرت ابراہیم کی دعا اپنی اولاد کے متعلق اور دوسرے انبیاء کی دعائیں اپنی اولاد کے متعلق یہ ساری قرآن کریم نے محفوظ فرما دیں۔بعض جگہ آپ کو ظاہر طور پر وقف کا مضمون نظر نہیں آئے گا جیسا کہ یہاں آیا ہے مُجددا۔اے خدا! میں تیری راہ میں اس بچے کو وقف کرتی ہوں۔لیکن بسا اوقات آپ کو یہ دعا نظر آئے گی کہ اے خدا جو نعمت تو نے مجھے دی ہے وہ میری اولاد کو بھی دے اور ان میں بھی انعام جاری فرما۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رنگ میں دعا کی۔لیکن حقیقت میں اگر آپ غور کریں تو جو انعام مانگا جارہا ہے وہ وقف کامل ہے۔کامل وقف کے سوانبوت ہو ہی نہیں ہوسکتی اور سب سے زیادہ بنی نوع انسان سے آزاد یعنی محر ر اور خدا کی غلامی میں جکڑ ا جانے والا نبی ہوتا ہے۔تو امر واقعہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولاد میں نبوت کو جاری فرما تو اس دعا کا حقیقی معنی یہ ہے میری اولاد کو ہمیشہ میری طرح غلام در غلام در غلام بناتا چلا جا۔اپنی محبت میں اپنی اطاعت میں جکڑتا چلا جا۔اتنا کامل طور پر جکڑ لے کہ دنیا میں کوئی آزادی کا پہلونہ رہے۔تو محررا۔۔۔دنیا سے آزاد کر کے میں تیرے سپرد کرتی