سلسلہ احمدیہ — Page 267
267 تحریک وقف کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صل توحید کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے پورا حصہ لو۔اور یہ محبت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک عملی حصہ میں کامل نہ ہو۔میری غرض یہ ہے کہ زبانی اقرار کے ساتھ عملی تصدیق لازمی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ خدا کی راہ میں اپنی زندگی وقف کرو۔اور یہی اسلام ہے اور یہی وہ غرض ہے جس کے لئے مجھے بھیجا گیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 138 ایڈیشن 1985، مطبوعہ انگلستان) اگر چہ جماعت احمدیہ میں وقف زندگی کا سلسلہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مبارک زندگی میں ہی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہو چکا تھا لیکن خلافت ثانیہ کے دور میں وقف زندگی کا با قاعدہ ایک نظام قائم ہوا۔خلفائے احمدیت نے مختلف وقتوں میں مختلف رنگ میں وقف کے لئے تحریکات فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان تحریکات پر لبیک کہتے ہوئے کئی خوش نصیب افراد نے اپنی زندگیاں خدمت دین و اشاعتِ اسلام کے لئے وقف کر کے مختلف بلاد و امصار میں مختلف حیثیتوں میں عظیم الشان خدمات کی توفیق پائی۔تا ہم حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کی تحریک وقف کو جماعت میں رائج وقف زندگی کی تحریکات سے مختلف اور منفرد اور ایک نئے رنگ میں وقف کی تحریک تھی۔اور اس تحریک کی بنیاد بھی قرآن مجید پر اور بالخصوص سورۃ آل عمران کی آیت 33 میں مذکور حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کی ایک دعا سے لطیف استنباط پر مشتمل تھی۔چنانچہ حضور رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 1987ء بمقام مسجد فضل لندن میں اس تحریک کا پس منظر اور اس خاص موقع پر اس تحریک کی غرض وغایت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: انبیاء کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنا سب کچھ دینے کی خاطر یہ سوچتے سوچتے کہ ہم