سلسلہ احمدیہ — Page 250
250 بلند ہے۔اس کی لمبائی 350 میل اور چوڑائی 25 رمیل ہے۔اس جھیل کی وجہ سے اس ملک کا نام مالاوی پکارا جاتا ہے۔آزادی سے قبل اس کا نام نیا سالینڈ تھا۔1963ء میں آزادی کے فور ابعد نئی حکومت نے اس کا نام مالاوی رکھ دیا یعنی چمکتے سورج اور پانیوں والی سرزمین۔یہ ملک نہایت خوبصورت مناظر اور سر سبز و شاداب وادیوں، بہت زیادہ نشیب و فراز اور ندی نالوں پر مشتمل ہے۔مشہور رفٹ ویلی اور جھیل مالاوی نے اس کی خوبصورتی اور زرخیزی میں کافی اضافہ کر رکھا ہے۔جبکہ اس کا رقبہ 118,485 مربع کلومیٹر ہے۔یہ شمال مشرق میں تنزانیہ، مشرق مغرب اور جنوب میں موزمبیق اور مغرب میں زیمبیا سے گھرا ہوا ہے۔شمال اور جنوب میں اس کی چوڑائی زیادہ سے زیادہ 25 سے 30 کلومیٹر اور وسطی علاقہ میں سات آٹھ سوکلو میٹر ہے۔اس ملک کی بڑی پیداوار مکتی، تمبا کو، مونگ پھلی اور تیل پیدا کرنے والی فصلیں ہیں۔ملکی تقسیم کے لحاظ سے اس کے تین ریجن شمالی ، وسطی اور جنوبی ہیں۔اس کا صدر مقام Lilongwe ہے۔احمدیت کا نفوذ : مالاوی میں احمدیت کا نفوذ 1950ء کی دہائی میں ہو چکا تھا۔شمال میں تنزانیہ کی سرحد کے ساتھ ایک گاؤں میں ایک دوست آشم چیڈا حاجیری صاحب کو چند کتب مطالعہ کرنے کے بعد احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔آہستہ آہستہ انہوں نے تبلیغ شروع کی اور خال خال لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔مکرم حاجیری صاحب نے تنزانیہ میں احمدیہ مشن سے رابطہ قائم کیا۔وہاں سے ان کا رابطہ لندن کروایا گیا۔اس رسل اور سائل کے سلسلہ نے ترقی کی مکرم حاجیری صاحب کو دونوں اطراف سے لٹریچر ملنے لگا۔اور یوں وہ اپنے فرائض منصبی کے ساتھ ساتھ احمدیت کی تبلیغ بھی کرنے لگے اور دور و نز د یک چند مقامات پر کچھ لوگ احمدی ہو گئے۔مگر جماعت منظم نہیں تھی اور اسی طرح تربیت کی بھی محتاج تھی۔مشکل حالات کے باوجود مکرم حاجیری صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔جماعت احمدیہ کی صد سالہ جو بلی (1989 ء) کے موقع پر ایسے ملک جن میں احمدی تو تھے مگر باقاعدہ مرکز ابھی قائم نہیں ہوا تھا ان کو ہمسایہ ملک جہاں پر باقاعدہ مرکز قائم تھا کی نگرانی میں دینے کا پروگرام