سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 239 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 239

239 کے عرصہ میں یہ مطبوعات ان ممالک سے اور خاص طور پر کینیا سے کونگو میں پہنچیں۔نیز کونگو کے رہنے والوں کی ان ممالک میں آمد و رفت کی وجہ سے احمدیت ان میں متعارف ہوئی۔خط و کتابت کے ذریعہ انفرادی طور پر بھی اس علاقے میں روابط قائم ہوئے۔اولین احمدی: ابتدائی طور پر جماعت کا پیغام کونگو کے مشرقی علاقوں میں آیا۔یہ سواحیلی بولنے والے علاقے ہیں۔یہاں کینیا سے آنے والے لٹریچر کے ذریعہ پیغام پہنچا تھا۔اسی طرح کم و بیش اسی دور (1960-65ء) میں کونگو کے سینٹر میں واقع صوبہ کسائی اور میٹل کے ڈسٹرکٹ Tshilenge تحصیل Kabeya Kamuanga کے ایک گاؤں Bena Mulombo میں ایک آدمی عیسی Musumadi نے جو نیروبی کینیا سے ہو کر آیا تھا لوگوں کو اسلام کا پیغام دینا شروع کیا۔لیکن عیسائی چرچ کی طرف سے عوام میں اسلام مخالف پروپیگینڈا بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسلام سے بہت خائف تھے۔مکرم میسلی صاحب اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر میں ہی نماز ادا کرتے رہے۔1960-61ء میں آپ کے پوتے ابراہیم Kanku نے بھی احمدیت قبول کر لی۔مزید معلومات کے لئے تنزانیہ مشن کے ساتھ رابطہ میں رہے اور وہاں سے واپسی پر اپنے احمدی بھائیوں کے ساتھ مل کر جھیل Munkamba کے گاؤں Bena Mulombo میں ایک احمدی کیمپ کی بنیاد رکھی جس کا نام انہوں نے Rabwah Munkamba رکھا۔1968-70ء میں صوبہ کسائی اوکسی ڈینٹل کے ایک مسلمان عثمان بادی نے بانتو (Usman Badi Ne Bantu) نے احمدیت قبول کرلی۔یہ کسائی اوکسی ڈینٹل کی تحصیل Dimbelenge ( جسم بے لینگے ) میں رہتے تھے۔ان کو جماعت کا پیغام کینیا سے آنے والے ایک اخبار یا رسالے Mapenzi Ya Mungu ( محبت الہی) کے ذریعہ ملا۔یہ اخباران کی ایک بہن کے ذریعہ ان تک پہنچا تھا جس کی روانڈا میں شادی ہوئی تھی لیکن کینیا آتی جاتی رہتی