سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 236 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 236

236 93 کلومیٹر دور سلی (اٹلی) مغرب میں 350 کلومیٹر طرابلس (لیبیا) واقع ہیں۔مالٹا تیونس کے مشرق میں 290 کلومیٹر دور ہے۔مالٹا کے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے اور سب سے قریب ترین خشکی کا علاقہ سلی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ بڑی شان سے پورا ہو چکا ہے اور جہاں زمین کے کناروں تک امام الزمان کا پیغام پہنچ چکا ہے وہیں پر سمندروں اور پانیوں کے درمیان واقع آبادیاں بھی اس پیغام سے سیراب ہورہی ہیں۔مالٹا پانچ جزیروں مالٹا، گوزو، کومینو، کومینوٹو اور فلفل پر مشتمل ایک چھوٹا سا ملک ہے تاہم کومینوٹو اور فلفلا نہایت چھوٹے ہیں اور وہاں پر لوگ رہائش نہیں رکھتے۔مالٹا کی زیادہ آبادی دو جزیروں مالٹا (Malta) اور گوزو ( Gozo) میں ہے۔مالٹا کی کل آبادی چار لاکھ دس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔اس چھوٹے سے ملک کا کل رقبہ 316 مربع کلومیٹر ہے۔مالٹا کا دارالحکومت والیٹا (Valletta) ہے۔روز نامه الفضل ربوہ مورخہ یکم جنوری 2003ء کے مطابق 27 جولائی 1955ء کو مالٹا کے ایک انجینئر نے لندن میں حضرت مصلح موعودہؓ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اور اس طرح مالٹا میں جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔مالٹا میں جماعت کے تعارف سے متعلق جماعت احمدیہ جرمنی کے صد سالہ خلافت جو بلی سود نیئر کے صفحہ نمبر 282 پر ایک مختصر رپورٹ شائع شدہ ہے۔اس کے مطابق جرمنی سے مکرم منیر احمد منور صاحب مربی سلسلہ اور مکرم نعیم احد صاحب نے مالٹا جا کر تبلیغ کا کام شروع کیا اور وہاں احمدیت کا پودا لگایا۔اس کی آبیاری کے لئے جرمنی سے واقفین عارضی مکرم افتخار احمد بھٹی صاحب، مکرم ایاد عودہ صاحب اور مبلغین سلسلہ مکرم ڈاکٹر عبد الغفار صاحب اور مکرم عبد الباسط طارق صاحب نے دورہ جات کئے۔انہوں نے کتب کے اسٹال لگائے ، افراد سے انفرادی ملاقاتیں کیں۔مالٹا میں جماعت احمدیہ کی باقاعدہ رجسٹریشن مورخہ 13 نومبر 2003ء کو ہوئی۔