سلسلہ احمدیہ — Page 204
204 27 رستمبر 1999ء کو اللہ تعالی کے فضل سے یہاں مکرمہ Yoroslava Shahid Antolivna نے بیعت کی توفیق پائی۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی و تربیتی مساعی کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا اور مزید یعنیں بھی ہوئیں۔2001ء میں پہلی بار یہاں نیشنل مجلس عاملہ کا قیام عمل میں آیا اور حافظ سعید الرحمان صاحب صدر جماعت مقرر ہوئے۔رشیا (Russia)۔۔۔۔۔۔۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ایک مضمون مطبوعہ اخبار الفضل 19 اگست 1923ء کے مطابق 1919ء میں رشیا اور اس کے بعض علاقوں میں کئی لوگ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کی تصدیق کر کے احمدیت میں شامل ہو چکے تھے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں 1921ء اور 1924ء میں باقاعدہ طور پر مکرم مولوی محمد امین خان صاحب افغانی اور مکرم مولوی ظہور حسین صاحب کو ان علاقوں میں بالخصوص بخارا کے علاقہ میں تبلیغ اسلام واحمدیت کے لئے بھیجوایا۔نہایت نامساعد حالات میں اور کئی قسم کی صعوبتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اور ہر قسم کے ظلم وتشدد کو برداشت کرتے ہوئے ان ہر دو مبلغین کی کوششوں سے مزید کئی سعید روحوں کو قبول احمدیت کی سعادت حاصل ہوئی۔(تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 400 404 وصفحہ 4957473۔اور کتاب "آپ بیتی مصنفہ حضرت مولوی ظہور حسین صاحب) بعد ازاں ایک لمبے عرصہ تک روس اور اس کی ریاستوں میں موجود احمدیوں سے مرکز کا رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔پھر عہد خلافت رابعہ میں حضرت خلیفہ میں خلیفہ رحمہ ت خلیفة المسح الرابع رحمہ اللہ کی پاکستان سے برطانیہ ہجرت (1984ء) کے بعد اور بالخصوص عالمی سطح پر ہونے والی بعض سیاسی تبدیلیوں اور دیوار برلن کے انہدام ( 1989ء) اور سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور بعض ریاستوں کی آزادی کے بعد ان ممالک