سلسلہ احمدیہ — Page 203
203 یوکرائن (UKRAINE) یوکرائن مشرقی یورپ کا ایک خود مختار اور رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے جو بحیرہ اسود، پہاڑوں اور آرتھوڈ کس چرچ کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کے مشرق اور شمال مشرق میں روس، شمال مغرب میں بیلا روس، اس کے مغرب میں پولینڈ اور سلواکیہ، جنوب مغرب میں ہنگری ، رومانیہ اور ملد و واجبکہ اس کے جنوب اور جنوب مغرب میں بحیرہ اسود اور بحیرہ ازوف واقع ہیں۔سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد یوکرائن نے 24 / اگست 1991ء کو آزادی کا اعلان کر دیا اور یوں ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشہ پر نمودار ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے ان علاقوں کی نسبت الہاما مطلع فرمایا تھا کہ میں اپنی جماعت کورشیا کے علاقہ میں ریت کی مانند دیکھتا ہوں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ جلد 12 صفحہ 114 روایت شیخ عبدالکریم صاحب جلد ساز کراچی) حضرت خلیفہ امسح الرائع نے جلسہ سالانہ یو کے 1993ء کے موقع پر اپنے دوسرے دن بعد دو پہر کے خطاب میں فرمایا: یوکرائن میں برادرم عزیزم رفیق چانن کے ذریعہ قلمی دوستی کے ساتھ تبلیغ کا آغاز ہوا اور وہاں ایک صاحب علی وسیلی اتیکوف (Ali Wasili Etikov) نے خط و کتابت کے ذریعہ اور پھر ہم سے رابطے کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کو قبول کیا اور وہاں بھی چونکہ کچھ اور دوست باہر سے تشریف لائے ہوئے تھے جو احمدی ہو چکے تھے یا احمدی تھے پہلے ہی، اس لئے اب وہاں بھی باقاعدہ جماعت قائم ہو چکی ہے۔یہعلی صاحب بھی اس وقت جلسہ میں شریک ہیں“ مکرم اخلاق احمد انجم صاحب مبلغ ماسکو نے جولائی 1993ء میں یوکرائن کے دو شہروں Kiev اور Vinnista کا دورہ کیا اور جماعت کی وہاں رجسٹریشن کے سلسلہ میں معلومات لیں۔اور یوکرائن میں مقیم احمدی طلباء سے رابطہ کیا۔13 جنوری 1999ء کو مکرم حافظ سعید الرحمن صاحب یوکرائن کے پہلے مبلغ سلسلہ کے طور پر یوکرائن پہنچے اور وہاں با قاعدہ مشن کا قیام عمل میں آیا۔