سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 154 of 938

سلسلہ احمدیہ — Page 154

154 کے عہد خلافت میں ہندوستان سے باہر انگلستان میں پہلا باقاعدہ مشن 1913ء میں قائم ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عالمگیر اشاعت اسلام کی مہم میں غیر معمولی تیزی آئی۔ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے مختلف ممالک میں مبلغین کا ایک وسیع نظام قائم ہوا۔بالخصوص تحریک جدید کی نہایت عظیم الشان تحریک (1934 ء) کے بعد سے دنیا بھر میں مشنوں کے قیام اور مختلف زبانوں میں تراجم قرآن مجید اور دیگر اسلامی لٹریچر کی اشاعت کے کاموں میں بہت وسعت پیدا ہو گئی۔یہی سلسلہ خلافت ثالثہ کے دور میں بھی آگے بڑھتا رہا۔اس کا کسی قدر احوال قارئین کی گزشتہ جلدوں میں پڑھ چکے ہیں۔1982ء میں حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ کی وفات کے بعد حضرت مرزا طاہر احمد صاحب منصب خلافت پر متمکن ہوئے۔دسمبر 1982ء میں منعقدہ عالمی شوری کی رپورٹ کے مطابق اُس وقت تک دنیا کے 31 ممالک میں باقاعدہ مشن قائم ہو چکے تھے۔اس کے علاوہ 32 ممالک میں باقاعدہ جماعتیں قائم ہو چکی تھیں اور 27 رایسے ممالک تھے جہاں انگار کا طور پر احمدی موجود تھے لیکن وہاں با قاعدہ جماعتوں کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔اس لحاظ سے گل 90 ممالک ایسے تھے جن میں یا تو با قاعدہ مشن قائم تھے پاتھا تیں قائم نہیں یا کچھ احمدی موجود تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے جماعت احمدیہ کے قیام پر سو سال پورے ہونے پر جماعت کو صد سالہ جوبلی کا جو پروگرام دیا تھا اس کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ کوشش کی جائے کہ 1989ء تک کم سے کم سو ممالک میں جماعت کا قیام عمل میں آجائے۔اس کے لئے سوممالک میں تبلیغی منصوبہ کے تحت جو مساعی جاری تھیں خلافت رابعہ کے دور میں ان میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔بالخصوص حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کی پاکستان سے ہجرت ( اپریل 1984ء) کے بعد تو اس سلسلہ میں بہت تیز رفتاری سے کام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کاوشوں کو بہت ہی شیریں پھل عطا فرمائے۔1984ء میں جب حضرت خلیفہ المسح الرابع حمہ اللہ کو خاص حالات میں پاکستان سے ہجرت کرنا